تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

یمنی فوج کا 24 گھنٹوں میں حوثیوں کے ایک ہزار سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

ایک ہزار

یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثی جنگجوؤں کے خلاف تقریباً 2 ہزار کارروائیاں کیں، جن میں ایک ہزار سے زائد زائد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مختلف محاذوں پر حوثی جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے دوران ایک ہزار 150 سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے۔

یمنی حکومتی افواج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے بتایا کہ یمن کی صبح کے نام سے جاری فوجی کارروائی کے تحت گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں تقریباً 2 ہزار کارروائیاں کی گئیں۔ حملوں میں مشرقی، مغربی اور جنوب مغربی محاذوں کو نشانہ بنایا گیا۔

فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے دوران حوثی جنگجوؤں کے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ حوثی گروہ کی زیر استعمال کم از کم 180 جنگی، نقل و حمل اور رسد فراہم کرنے والی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔

کرنل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق زمینی افواج نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور مختلف محاذوں پر حملوں کا سلسلہ برقرار رکھا۔ اہم پہاڑی مقامات اور مختلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے۔