تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

ٹرمپ کا ریاض ایئرپورٹ حملے پر سخت ردعمل، حوثیوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ

ریاض

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ہوائی اڈے پر حملے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حوثیوں کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقعے سے خوش نہیں ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے حملے کو خوف ناک واقعہ قرار دیا اور کہا کہ انہیں ریاض کے ہوائی اڈے پر حالیہ حملے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔ امریکہ اس معاملے اور ایران سے متعلق صورت حال کا بھی جائزہ لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ سعودی عرب اپنی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم امریکہ اس معاملے پر تیزی سے فیصلہ کرے گا۔

امریکی صدر کے مطابق واشنگٹن کا حوثیوں کے ساتھ رابطہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پر جو کچھ ہوا وہ بہت برا تھا اور ایسے حملے ناقابل قبول ہیں۔

ٹرمپ نے بتایا کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی جلد بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گفتگو میں ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے اور اس کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یہ دیکھ رہا ہے کہ حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن سعودی عرب پر حملوں کے تناظر میں مزید اقدامات کے امکان کو مسترد نہیں کر رہا۔ تاہم امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں ممکنہ کارروائی کی نوعیت، وقت یا دائرۂ کار کی تفصیلات نہیں بتائیں۔