فرانس کی فوج نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے باب المندب کے قریب 2 جنگی جہاز تعینات ہیں۔
فرانس کی فوج نے بتایا ہے کہ اس کی بحری افواج بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو حوثی ملیشیا کے ممکنہ حملوں سے تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے باب المندب کے قریب 2 جنگی جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔
فرانسیسی فوج نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جنگی جہاز معلومات جمع کرنے اور تجارتی جہازوں کی حفاظت سے متعلق ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو درپیش خطرات کے باعث یورپی ممالک اپنے بحری انتظامات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یورپی یونین اپنے بحری مشن کی صلاحیت بڑھانے کے لیے رکن ممالک سے مزید جنگی جہاز فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے مطابق تجارتی جہازوں کو بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرتے وقت تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید بحری وسائل درکار ہیں۔
کاجا کالاس نے کہا کہ مشن کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے کم از کم 10 جنگی جہازوں کی ضرورت ہے، تاہم یورپی یونین کے پاس اس وقت مطلوبہ تعداد میں جہاز موجود نہیں۔ ان کے مطابق دستیاب جہازوں کی تعداد بڑھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
یورپی یونین نے گزشتہ ماہ حوثی ملیشیا کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اپنے بحری مشن کے لیے حفاظتی انتباہ کی سطح میں اضافہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے یمن کے مغربی ساحل کے بعض حصوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا، جس سے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے حوالے سے خدشات بڑھے۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملانے والی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس راستے سے گزرنے والے تجارتی جہاز عالمی تجارت کے لیے اہم ہیں، اسی لیے خطے میں کسی بھی حملے یا سکیورٹی خطرے سے عالمی جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔






