ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ اب صرف انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہی بلکہ ماحول کو بھی شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماحولیات کو اب جنگ کا خاموش شکار مزید نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران غزہ، لبنان اور ایران میں ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح عسکری حملوں نے انسانی جانی نقصان اور اہم ترین بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے ساتھ ساتھ ماحول پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ماحولیاتی تباہی کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے بھی غیر معمولی ماحولیاتی نقصان کا ذکر کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ لبنان میں جنگی ہتھیاروں کے استعمال اور حملوں کی وجہ سے لگنے والی آگ نے جنگلات اور زرعی زمین کے بڑے حصوں کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کو پیش کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ لاکھوں مربع میٹر زمین جل چکی ہے اور دسویں ہزار زیتون کے درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی تیل، ریفائنری اور توانائی کی تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں نے بھی سنگین ماحولیاتی خطرات کو جنم دیا ہے۔






