تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں جنگ سے ہونے والی ماحولیاتی تباہی سے خبردار کر دیا

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ اب صرف انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہی بلکہ ماحول کو بھی شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ اب صرف انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہی بلکہ ماحول کو بھی شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماحولیات کو اب جنگ کا خاموش شکار مزید نہیں سمجھا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران غزہ، لبنان اور ایران میں ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح عسکری حملوں نے انسانی جانی نقصان اور اہم ترین بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے ساتھ ساتھ ماحول پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ماحولیاتی تباہی کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے بھی غیر معمولی ماحولیاتی نقصان کا ذکر کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ لبنان میں جنگی ہتھیاروں کے استعمال اور حملوں کی وجہ سے لگنے والی آگ نے جنگلات اور زرعی زمین کے بڑے حصوں کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کو پیش کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ لاکھوں مربع میٹر زمین جل چکی ہے اور دسویں ہزار زیتون کے درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی تیل، ریفائنری اور توانائی کی تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں نے بھی سنگین ماحولیاتی خطرات کو جنم دیا ہے۔