تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

ڈیرہ بگٹی میں 20 سے زائد فراری دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیئے

ڈیرہ بگٹی

ڈیرہ بگٹی میں 20 سے زائد فراری دہشت گردوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے سامنے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔

ڈیرہ بگٹی کے پاکستان ہاؤس سوئی میں ایک اہم تقریب منعقد ہوئی، جس میں 20 سے زائد فراری دہشت گردوں نے پرامن زندگی گزارنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اپنے ہتھیار وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے سامنے رکھ دیے۔

ہتھیار ڈالنے والے ان افراد نے تشدد اور بغاوت کا راستہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر ملک کے آئین اور قانون کا احترام کرنے کا حلف اٹھایا۔

اس موقع پر فراری کمانڈر نور خان بگٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں اور ایک پرامن شہری کی حیثیت سے اپنی زندگی گزاریں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ریاست ہمیشہ ان لوگوں کے لیے آغوش کھولتی ہے، جو تشدد کا راستہ چھوڑ کر قانون کے دائرے میں واپس آتے ہیں۔