آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والا تجارتی بحری جہاز زیر آب بارودی سرنگ کے دھماکے سے تباہ گیا، جس کے نتیجے میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق خام تیل لے جانے والا ایک بڑا سپر ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ اس بحری جہاز نے اپنے تمام نیویگیشن، لوکیشن اور پوزیشننگ سسٹمز مکمل طور پر بند کر رکھے تھے تاکہ سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچ کر نکل سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دھماکے کے فوری بعد ٹینکر میں خوفناک اور ہولناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے بلند شعلے اور سیاہ دھوئیں کے بادل ساحلی علاقوں میں مقیم شہریوں کو بھی دور سے واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے۔
پاسداران انقلاب کی بحریہ کے پبلک ریلیشنز آفیشل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، قوانین اور ضوابط کو نظر انداز کرنے والے کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے ٹینکر کا مقدر صرف اور صرف خوفناک آگ اور تباہی ہے۔
بیان کے مطابق اس جہاز نے ایرانی بحری افواج کی جانب سے دی جانے والی مسلسل وارننگز کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا، جس کے نتیجے میں یہ سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گیا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز سے لے کر اب تک یہ تیسرا آئل ٹینکر ہے جو ممنوعہ اور غیر قانونی روٹ استعمال کرنے کی کوشش میں سمندری بارودی سرنگوں کی زد میں آکر آتشزدگی کا شکار ہوا ہے۔






