امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کی تمام اہم تنصیبات پر حملے نہ کرنے کی جنگ بندی پر فوری عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں دنیا کو آگاہ کیا کہ روس اور یوکرین بالآخر ایک دوسرے کے پاور پلانٹس، آئل ریفائنریز، گیس پائپ لائنز اور دیگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے ایک تاریخی اور فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا کہ توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے اس اہم معاہدے کا نفاذ بلا تاخیر فوری طور پر شروع ہو رہا ہے اور جنگ میں شامل دونوں فریقین پر لازمی ہے کہ وہ اس طے شدہ جنگ بندی کی کسی بھی صورت ورزی سے مکمل پرہیز کریں۔
اسی بیان کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی توانائی کے ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے کی پالیسی پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس کی توانائی کی اہم تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کرنے کے نتیجے میں نہ صرف خطے کی بجلی اور گیس کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، بلکہ اس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے اور دنیا بھر کے عام شہریوں کے لیے سنگین معاشی مسائل جنم لیتے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے تند و تیز الفاظ میں یوکرینی قیادت پر الزام عائد کیا کہ صدر زیلنسکی اپنے بعض فیصلوں اور جارحانہ اقدامات کے ذریعے پوری دنیا کے لیے غیر ضروری مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اس جنگ کے عالمی معاشی اثرات کو مزید بگڑنے نہیں دے گا اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کو روکنا اس سمندر پار تنازعے کو کنٹرول میں لانے کی سمت پہلا اور اہم ترین قدم ہے۔ اس اعلان کے بعد بین الاقوامی برادری اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں سکھ کا سانس لیا جا رہا ہے۔






