محسن رضائی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ چھڑی تو یو اے ای اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد موجود 2 ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی اثاثے اور ٹیک انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہو جائیں گے۔
ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سینئر رکن اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر امریکہ کو انتہائی سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک ساحلی علاقوں میں امریکہ اور اس کے حلیفوں کے 2 ٹریلین ڈالر سے زائد کے تجارتی، عسکری اور تکنیکی اثاثے موجود ہیں۔
محسن رضائی نے واضح کیا کہ اگر امریکہ نے کسی بھی قسم کی عسکری حماقت یا ایران کے خلاف براہ راست جنگ چھیڑنے کی کوشش کی تو ایرانی افواج کی جوابی کارروائی میں ان تمام امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اثاثوں میں کھربوں ڈالر مالیت کے عالمی ڈیٹا سینٹرز، زیرِ سمندر بچھائی گئی انٹرنیٹ و مواصلاتی کیبلز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے جدید ترین اور حساس ترین مراکز شامل ہیں، جن کی تباہی امریکہ اور مغرب کو معاشی اور تکنیکی اعتبار سے دہائیوں پیچھے دھکیل دے گی۔
محسن رضائی نے ٹرمپ انتظامیہ پر آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں بڑے پیمانے پر خام تیل کی غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے خطے میں تیل کی اسمگلنگ کا ایک پورا منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے اور اس مقصد کے لیے خصوصی افراد کو بھاری معاوضوں پر بھرتی کیا گیا ہے۔ امریکی سینٹ کام (سینٹرل کمانڈ) کے کمانڈر بھی اس تیل اسمگلنگ ریکیٹ میں براہ راست ملوث اور اس کے سرپرست ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے بحری جہازوں اور بوٹس کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تیل کو بڑے آئل ٹینکروں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ تاہم، ایرانی بحریہ اور پاسداران انقلاب ہر رات آبنائے ہرمز میں ان گشت کرنے والے اسمگلرز کی کارروائیوں کو ناکام بناتی ہیں اور ان کی کوششوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مضحکہ خیز اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور اس کا حتمی، عملی اور حقیقی کنٹرول صرف اور صرف ایران کے پاس ہے۔






