کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی قومی مفادات اور سیکیورٹی سے متعلق کارروائیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی، امریکہ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ تنازع کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران اپنی خودمختاری اور تحفظ کے پیش نظر قانونی اور سیکیورٹی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
انہوں نے امریکہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ اور دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ واشنگٹن انتظامیہ کو ہر صورت یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ خطے کے بحران، اقتصادی پابندیوں اور سمندری سلامتی جیسے پیچیدہ مسائل کا کوئی بھی عسکری یا فوجی حل موجود نہیں ہے اور زور زبردستی کے ذریعے ایران کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ایران اور ہمسایہ ملک عمان کے درمیان ایک جامع بحری معاہدے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اس معاہدے کو اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر باضابطہ طور پر رجسٹر کرانے کی سفارتی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔
تاہم انہوں نے مغربی میڈیا کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس بحری معاہدے کے عالمی سطح پر رجسٹرڈ ہونے کا ہرگز یہ مطلب اخذ نہ کیا جائے کہ آبنائے ہرمز کو عالمی بحری نقل و حرکت کے لیے فوری یا خودکار طور پر کھول دیا جائے گا۔
نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو عام بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے لیے لازمی ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ کیے گئے اپنے سابقہ معاہدوں، سفارتی وعدوں اور قانونی ذمہ داریوں کو بلا مشروط پورا کرے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تہران اس وقت عمان اور دیگر ثالث ممالک کے توسط سے موصول ہونے والی امریکی تجاویز، پیغامات اور شرائط کا تکنیکی اور سفارتی بنیادوں پر بغور جائزہ لے رہا ہے اور ان تجاویز پر ایران کا حتمی، باضابطہ اور تفصیلی مؤقف براہ راست بات چیت کے بجائے ثالثوں کے ذریعے ہی واشنگٹن تک پہنچایا جائے گا۔






