سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے نئے اور مسلسل چوتھے حملے میں ایک پاکستانی شہری شہید، 11 دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے تصدیق کی ہے کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک بار پھر راکٹ اور پروجیکٹائل کا حملہ کیا گیا ہے۔
سول ایوی ایشن حکام کے مطابق اس افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعے میں وہاں روزگار کے سلسلے میں مقیم ایک پاکستانی شہری جامِ شہادت نوش کر گیا، جبکہ 11 دیگر مسافر و عملے کے ارکان زخمی ہوئے ہیں، جنہیں ہنگامی بنیادوں پر طبی علاج معالجے کے لیے شہر کے مختلف جدید اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے گزشتہ 5 روز کے دوران کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والا یہ چوتھا بڑا حملہ ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی صوبے دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی دوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ایوی ایشن حکام اور سیکیورٹی ادارے دونوں اہم ترین ایئرپورٹس پر حملوں سے ہونے والے ڈھانچے کے نقصانات کا باریک بینی سے معائنہ کر رہے ہیں اور ایئرپورٹ کی مجموعی سیفٹی کا انسپکشن جاری ہے۔
سعودی اتحادی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر نصب جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب بڑھنے والے ایک کروز میزائل کو فضا میں ہی انٹرسیپٹ کر کے تباہ کر دیا تھا، تاہم ایک نامعلوم پروجیکٹائل نچلی پرواز کرتا ہوا ڈومیسٹک پروازوں کے پیسنجر ٹرمینل 4 سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں گھاس اور رن وے کے قریب شدید آگ بھڑک اٹھی۔
ہوائی جہاز میں موجود ایک مسافر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ رات تقریباً 8:30 بجے جہاز کے رن وے پر ایک دھماکہ خیز پروجیکٹائل کھڑے ہوئے، جہازوں کے قریب آ گرا، جس سے شدید آگ لگی اور تمام مسافروں کو فوری طور پر لاؤنج میں واپس اتار کر محفوظ مقامات پر بھیج دیا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل اسی ایئرپورٹ پر حوثیوں کے ایک بڑے حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔






