امریکی انتظامیہ نے یوکرین اور یورپی اتحادیوں کو سخت خبردار کیا ہے کہ اگر کیف نے روس کی توانائی تنصیبات پر ڈرون حملے نہ روکے تو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی اور امریکی ہتھیاروں کی خریداری معطل کر دی جائے گی۔
امریکی اخبار سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یوکرین اور یورپی اتحادیوں کو ایک سنگین تنبیہ جاری کی، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر یوکرین نے روس کے اندر قائم تیل کی ریفائنریوں اور توانائی کی تنصیبات پر اپنے حملے بند نہ کیے تو امریکہ یوکرین کے ساتھ خفیہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ روک دے گا۔ اس کے علاوہ یورپ کے ذریعے یوکرین کے لیے امریکی ہتھیاروں کی خریدی کی سہولت بھی معطل کی جا سکتی ہے۔
یورپی حکام اور متعلقہ ذرائع کے مطابق یہ الرٹ پینٹاگون اور امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے بھیجا گیا ہے، جبکہ امریکی فوج نے براہ راست یوکرینی کمانڈروں کو بھی یہ پیغام پہنچایا ہے۔
امریکہ کی طرف سے انٹیلی جنس ڈیٹا کی فراہمی معطل ہونے سے یوکرین کا دفاعی نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ امریکہ ہی یوکرین کو روسی بلیسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کی جگہوں کے بارے میں پیشگی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائلوں کی فراہمی بھی رکنے کا خدشہ ہے، جس کی یوکرین کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
یہ کشیدگی اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی پالیسیوں پر شدید ناگواری کا اظہار کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اس جنگ کو قرار دیتے ہیں اور دونوں فریقین سے توانائی کی تنصیبات پر حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان توانائی جنگ بندی کا اعلان بھی کیا ہے، تاہم اس سخت رویے کے باعث امریکہ اور یوکرین کے روابط شدید تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔






