تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

جیوتی کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 139 افراد ہلاک

جیوتی کے ساحل کے قریب 300 سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو لے جانے والی اوور لوڈڈ کشتی الٹنے سے 139 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 84 افراد لاپتہ ہیں۔

جیوتی کے ساحل کے قریب 300 سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو لے جانے والی اوور لوڈڈ کشتی الٹنے سے 139 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 84 افراد لاپتہ ہیں۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق مشرقی افریقہ کے ملک جیوتی کے ساحلی علاقے گوہیرے کے قریب ایک ہولناک بحری حادثہ پیش آیا ہے۔ 305 افراد کو لے جانے والی گنجائش سے بھری ایک کشتی جیوتی سے یمن کی طرف جا رہی تھی کہ سمندر میں الٹ گئی۔ حادثے کے نتیجے میں 15 بچوں سمیت 139 تارکین وطن کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق 84 افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے، جبکہ 80 سے زائد افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ بچ جانے والے تمام افراد کا تعلق ایتھوپیا سے ہے۔

زندہ بچ جانے والے افراد شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور انہیں سمندری پانی پی جانے کی وجہ سے طبی اور نفسیاتی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق تمام متوفین کو اجتماعی قبروں میں بنا نام کے دفن کیا جا رہا ہے کیونکہ ان کی شناختی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔

اقوام متحدہ کی ہجرت ایجنسی کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ تارکین وطن کے لیے قانونی اور محفوظ راستے فراہم کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔

افریقہ کے ساحلوں سے خلیجی ممالک کی طرف روزگار کی تلاش میں جانے والا یہ سمندری راستہ انتہائی خطرناک جانا جاتا ہے، جہاں ہر سال سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔