تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

روس نے 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم میں مداخلت کی تھی، برطانوی وزیراعظم

بریگزٹ

برطانوی وزیراعظم نے پہلی بار اعلانیہ اعتراف کیا ہے کہ روس نے 2016 کے تاریخی بریگزٹ ریفرنڈم میں مداخلت کی تھی، انہوں نے یورپی ممالک کو ایسے خطرات سے محتاط رہنے کے مشورہ دیا۔

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایک خصوصی پوڈ کاسٹ انٹرویو میں انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری معلومات کے مطابق یہ بات بلکل واضح ہے کہ روس نے 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم میں مداخلت کی تھی۔

وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ انہوں نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ آنے کے بعد اس حوالے سے سوال کیا تھا، جس پر انہیں مصدقہ جواب ملا کہ روس نے یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے ووٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے فرانس اور جرمنی کے ووٹرز کو بھی خبردار کیا کہ ان کی اندرونی سیاست میں بھی یہی عناصر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس قسم کے اقدامات روس جیسے مخالفین کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔

اینڈی برنہم نے مزید بتایا کہ انہوں نے جرمن چانسلر فریڈرک میرز سے بھی ملاقات کے دوران روس اور انتہا پسند سیاسی جماعتوں کے تعلقات پر بات کی ہے۔

انہوں نے بریگزٹ کے فیصلوں پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو چھوڑنے سے برطانیہ معاشی اور امیگریشن کے مسائل میں کمزور ہوا ہے، اس لیے یورپی یونین سے دوبارہ تعلقات استوار کرنے پر غور ہونا چاہیے۔ روس تاہم اس قسم کی تمام مداخلت کے الزامات کو مسلسل مسترد کرتا رہا ہے۔