تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

شمالی کوریا کا مشرقی سمندر کی جانب متعدد بلیسٹک میزائلوں کا نیا تجربہ، جنوبی کوریا کا شدید احتجاج

شمالی کوریا

شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب ایک بار پھر متعدد بلیسٹک میزائل داغے دیئے، جسے جنوبی کوریا نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے مطابق شمالی کوریا نے پیانگ یانگ کے علاقے سے سمندر کی سمت میں متعدد بلیسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔

عسکری حکام کے مطابق ان میں سے ایک میزائل نے 900 کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کیا۔ دوسری جانب جاپانی کوسٹ گارڈ نے بھی دو غیر شناخت شدہ پروجیکٹائلز کی نشاندہی کی ہے، جو سمندر میں جا گرے۔

جنوبی کوریا کے صدر کے دفتر نے پیانگ یانگ کے اس قدم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے مسلسل میزائل تجربات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان تجربات کو فوراً روکا جانا چاہیے۔

جوائنٹ چیفس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ میزائل تجربہ جنوبی کوریا کی جانب سے گزشتہ روز کیے گئے ہائپر سونک میزائل کے کامیاب تجربے کے جواب میں طاقت کا مظاہرہ لگتا ہے۔

یاد رہے کہ جنوبی کوریا نے حال ہی میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کیا تھا، جس کا مقصد ہنگامی صورتحال میں شمالی کوریا کے اہم اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔