تہران (جی ٹی وی نیوز) — 12 اکتوبر 2026 : ایران نے امریکا کی جانب سے زمینی ناکہ بندی سے متعلق بیانات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اپنی جارحانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں نہ پہلے کامیاب ہوا اور نہ اب کامیاب ہوسکے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ایران کی زمینی ناکہ بندی سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کی دشمنی اور جارحانہ عزائم کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کے حکام کی موجودہ گفتگو ان کی مجموعی پالیسی اور طرزِ عمل کے مطابق ہے، اس لیے ایران کو امریکا سے کسی مثبت رویے کی توقع نہیں ہے۔
مارکو روبیو کے بیان پر بھی ایران کا ردعمل
اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روبیو نے بھی موجودہ تنازعے کو دو ہزار سال پرانا قرار دیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے سوال اٹھایا کہ جب امریکی حکام خود اس نوعیت کے بیانات دے رہے ہوں تو تہران ان سے کس قسم کے رویے کی توقع کرسکتا ہے۔
بقائی کے مطابق ایران کے خلاف مسلسل امریکی دباؤ اور اقدامات بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی پالیسیوں کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہا ہے، تاہم تہران اس صورتحال کے باوجود اپنے سفارتی روابط برقرار رکھنے کے لیے سرگرم رہے گا۔
دنیا امریکی اقدامات کی حقیقت سمجھ چکی ہے، بقائی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اپنے اقدامات کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ دنیا کے مختلف ممالک اب ان کے قانونی اور سفارتی اثرات کو سمجھ چکے ہیں۔
ان کے مطابق خودمختار ریاست کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایران امریکی دباؤ کے باوجود دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات جاری رکھنے کی پالیسی پر عمل کرے گا۔
ایران کی زمینی ناکہ بندی کا معاملہ کیا ہے؟
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا ایران کی زمینی ناکہ بندی سے متعلق بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی اور اقتصادی کشیدگی برقرار ہے۔
ایران کے لیے زمینی تجارتی راستے اہم ہیں کیونکہ اس کی زمینی سرحدیں ترکی، عراق، پاکستان، افغانستان، آذربائیجان، آرمینیا اور ترکمانستان سمیت متعدد ممالک سے ملتی ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے تجارت، سامان کی نقل و حرکت اور علاقائی اقتصادی روابط برقرار رہتے ہیں۔
تاہم امریکی بیان کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ایران کی تمام زمینی سرحدوں کی عملی ناکہ بندی نافذ ہوچکی ہے۔ ایسی کسی کارروائی کے نفاذ، اس کے دائرہ کار اور متعلقہ پڑوسی ممالک کے تعاون سے متعلق الگ اور قابلِ اعتماد تصدیق درکار ہوگی۔
دولتِ مشترکہ کے ممالک سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترکمانستان میں دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کے صدور کے اجلاس میں ایران کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب ایرانی صدر نے خصوصی مہمان کی حیثیت سے اس اجلاس میں شرکت کی۔
بقائی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے ایسے اجلاسوں اور رابطوں کو جاری رکھنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق تہران کے دولتِ مشترکہ کے تمام رکن ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اس طرح کی ملاقاتیں دوطرفہ اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
علاقائی سفارت کاری ایران کے لیے کیوں اہم ہے؟
ایران کے لیے وسطی ایشیا، روس اور قفقاز کے ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی روابط خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ ممالک تجارت، توانائی، نقل و حمل اور علاقائی تعاون کے مختلف مواقع فراہم کرتے ہیں۔
امریکی اقتصادی دباؤ میں اضافے کے تناظر میں تہران علاقائی تعلقات کو وسعت دینے اور مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے تازہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی دباؤ اور ناکہ بندی سے متعلق بیانات کے جواب میں بین الاقوامی قانون، علاقائی سفارت کاری اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ بنا رہا ہے۔






