برطانوی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے زیر استعمال برطانوی فضائی اڈے پر مبینہ سازش کے پیچھے ایران کے پاسداران انقلاب کا ہاتھ تھا، جس کے بعد برطانیہ نے دو ایرانی شہریوں پر فوری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برہم نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیئرفورڈ میں واقع رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے اڈے کے خلاف گھناؤنی سازش تقریباً یقینی طور پر ایران کے پاسداران انقلاب کے اشارے پر تیار کی گئی تھی۔
برطانوی وزیر اعظم نے واضح الفاظ میں تنبیہ کی کہ برطانیہ اپنی سرزمین پر اس قسم کے سیکیورٹی خطرات اور دشمنانہ اقدامات کو بلکل برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ برطانوی حکومت ایران کے مجرمانہ نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے تمام دستیاب قانونی اختیارات، طاقت اور مالی وسائل کو نشانہ بنانے والے میکانزم کا استعمال کرے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ایران اور پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے مزید کڑی پابندیاں عائد کرے گی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد، جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ برطانیہ اپنے ان الزامات کے ذریعے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی عسکری جارحیت میں اپنے کردار پر پردہ ڈالنے اور عالمی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق برطانیہ تقریباً یقینی اور قوی امکان جیسے مبہم الفاظ کا سہارا لے کر بغیر کسی ثبوت کے تہران پر الزام تراشی کر رہا ہے، جو کہ عالمی امن اور سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
یہ واقعہ ستمبر کے آخر میں پیش آیا تھا، جب انگلینڈ کے جنوبی علاقے میں واقع اس اہم فضائی اڈے کے قریب سے 20 سے 30 سال کی عمر کے 5 برطانوی شہریوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
اس اڈے کو امریکی فوج ایران کے خلاف مختلف آپریشنز اور حملوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہے، جس کی منظوری برطانوی حکومت نے دی تھی۔






