تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، کاظم غریب آبادی

کاظم غریب آبادی

کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ تہران تمام معقول سفارتی عمل اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن ساتھ ہی اپنے دفاع کے لیے بھی مکمل طور پر لیس ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے عرب ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران اس وقت نیویارک میں پیش کی گئی ایرانی تجاویز پر امریکی فریق کی جانب سے سامنے آنے والے مشاہدات اور نقطہ نظر کا حتمی جواب تیار کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام تر داخلی اور سفارتی مشاورت مکمل ہونے کے بعد ایران اپنا حتمی اور باضابطہ مؤقف ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچا دے گا۔

کاظم غریب آبادی نے زور دے کر کہا کہ تہران نے ہمیشہ سفارت کاری کا خیرمقدم کیا ہے اور وہ کسی بھی فریق کے ساتھ بامعنی گفتگو سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا، بشرطیکہ سامنے سے آنے والے مطالبات حقیقت پسندانہ اور منصفانہ ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جنگ لڑنے اور اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت اور تیاری، اس کی مذاکرات کرنے کی تیاری سے کسی طور کم نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل میں ایران کی مسلسل شرکت اس کی سیاسی لچک اور سفارتی حل سے وابستگی کا ثبوت ہے، لیکن اب امریکا کو بھی اپنے حقوق اور وعدوں کی طرف لوٹنا ہوگا کیونکہ واشنگٹن نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا۔

انہوں نے صاف کہا کہ جب تک امریکی فریق اپنے تمام وعدوں کو یکسر نظر انداز کرتا رہے گا، اس وقت تک ایران سے مزید لچک دکھانے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔