تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

یمنی افواج کے حوثی ملیشیا کیخلاف شدید فضائی حملے، 950 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

حوثی ملیشیا

یمنی مسلح افواج نے جاری فجرِ یمن آپریشن کے تحت حوثی ملیشیا کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے ان کے عسکری ڈھانچے اور سپلائی لائنوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یمنی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے بیان میں بتایا کہ فجرِ یمن آپریشن کے تحت حوثی ملیشیا کے عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے جنگی طیاروں، ڈرونز، فیلڈ آرٹلری، راکٹ لانچرز اور اسنائپر یونٹس کا آزادانہ اور مؤثر استعمال کیا گیا۔ اس دوران دشمن کے ٹھکانوں اور دفاعی لائنوں پر ایک ہزار 879 کے قریب انتہائی شدید اور براہ راست حملے کیے گئے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی تخمینوں کے تحت ان شدید کارروائیوں کے نتیجے میں حوثی ملیشیا کے تقریباً 950 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ان کی 380 کے قریب عسکری گاڑیاں، ترسیلی وسائل، گاڑیاں اور جنگی آلات مکمل طور پر تباہ اور ناکارہ بنا دیے گئے ہیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ ان حملوں میں دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز، ہتھیاروں و بارود کے گوداموں، قلعہ بند تنصیبات، آرٹلری پوزیشنز اور کمک بھیجنے کے راستوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، جس سے حوثی صفوں میں شدید افراتفری اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا۔

کرنل ماجد النزیلی نے مزید کہا کہ تعز کے محاذوں پر کی گئی فضائی کارروائیوں نے حوثیوں کی تمام تازہ دم کمک کو تباہ کر دیا اور ان کے جنگجوؤں کے اجتماعات کو منتشر کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام عسکری کارروائیاں عالمی انسانی قوانین اور شہریوں کے تحفظ کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت یمنی ملٹری انجینئرنگ کے یونٹس حوثیوں سے واگزار کرائے گئے علاقوں کو بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد سے پاک کر رہے ہیں تاکہ شہری محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ دریں اثناء یمن کے علاقوں الحدیدہ اور عمران میں بھی نئے فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔