تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

اگر روس نے حملہ کیا تو ہم ان کی ہر تنصیب کو تباہ کر دیں گے، نیٹو کمانڈر

نیٹو کمانڈر

نیٹو کے اعلیٰ عسکری کمانڈر نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی سرزمین پر حملہ کیا تو نیٹو اس کی جنگی صلاحیتوں اور تمام حامی بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں جاری سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی فضائیہ کے جنرل اور نیٹو کے یورپ میں سپریم الائیڈ کمانڈر الیکسس گرنکیوچ نے کہا کہ اگر کوئی دشمن ہم پر حملہ کرنے کی حماقت کرے گا تو ہم اس کے خلاف پوری طاقت سے لڑیں گے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ نیٹو نہ صرف حملہ آور فورس کو روکے گا بلکہ ہر اس چیز کو مٹی میں ملا دے گا، جو اس طاقت کو سہارا اور کنٹرول فراہم کرتی ہے۔

جنرل گرنکیوچ نے اپنے تین نکاتی اسٹریٹجک پلان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں دشمن کی فوج کو روکنا، اسے کمزور کرنا اور پھر اس کے جنگی نظام کو توڑ دینا شامل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے لیکن اپنے 32 اراکین میں سے کسی پر بھی جارحیت کی صورت میں وہ فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔