متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی شہریوں کو عوامی اجتماعات، مظاہروں اور سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کے حوالے سے مقامی قوانین کی پابندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں قید، بھاری جرمانے اور ملک بدری سمیت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیورو آف ایمگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر یا کام کرنے والے پاکستانی شہریوں کو میزبان ملک کے قوانین اور ضوابط کا احترام کرنا چاہیے۔ کسی اجتماع میں دوسرے افراد کی موجودگی کو اس بات کا ثبوت نہ سمجھا جائے کہ وہاں شرکت کی قانونی اجازت حاصل ہے۔
ہدایت میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی تقریب یا اجتماع کی قانونی حیثیت کے بارے میں شبہ ہو تو شرکت سے پہلے متعلقہ اماراتی حکام سے رہنمائی حاصل کی جائے تاکہ کسی ممکنہ قانونی مشکل سے بچا جاسکے۔
متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے مقامی قوانین کی پابندی روزگار، رہائشی حیثیت اور مستقبل کے سفری معاملات کے تحفظ کے حوالے سے اہم ہے۔ کسی قانون کی خلاف ورزی کے نتیجے میں انفرادی طور پر قانونی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی سلامتی، روزگار اور فلاح و بہبود کو ترجیح دیں اور کسی بھی سیاسی یا عوامی سرگرمی میں حصہ لینے سے پہلے اس سے متعلق ضوابط کی تصدیق کریں۔






