نئی دہلی (جی ٹی وی نیوز) — 13 اکتوبر 2026 : بھارت میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج تیز کردیا ہے۔ تحریک کے کارکن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں، جبکہ انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے جانے کے معاملے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔
امتحانی پرچوں سے شروع ہونے والی تحریک انتخابی تنازع تک پہنچ گئی
یہ تحریک ابتدا میں امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے خلاف شروع ہوئی تھی، تاہم بعد میں اس نے انتخابی شفافیت اور ووٹروں کے حقوق جیسے معاملات کو بھی اپنے احتجاج کا حصہ بنا لیا۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے ووٹروں کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔
13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کرنے کا الزام
مظاہرین اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ افراد کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس عمل کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
تاہم ناموں کے اخراج کی تعداد اور اس کے پیچھے کسی سیاسی مقصد کے ہونے سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل اور اس کے اثرات کا جائزہ لیے بغیر ان الزامات کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافی بھی زیرِ حراست
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نئی دہلی میں احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ صحافتی تنظیموں کے مطابق بعض رپورٹرز کے موبائل فون ضبط کیے گئے، جبکہ پریس شناخت ظاہر کرنے کے باوجود انہیں کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارت کے پریس کلب سمیت صحافتی تنظیموں نے ان واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات اور جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان واقعات نے احتجاج کی کوریج اور صحافیوں کی آزادی سے متعلق سوالات کو بھی نمایاں کردیا ہے۔
مودی حکومت کو معاشی دباؤ کا بھی سامنا
نوجوانوں کے احتجاج کے ساتھ بھارتی حکومت کو معاشی دباؤ اور امریکا کے ساتھ تجارتی اختلافات جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق بھارتی روپے پر دباؤ، روسی تیل کی خریداری پر امریکی تحفظات اور تجارتی معاملات میں اختلافات نے نئی دہلی کے لیے مزید چیلنجز پیدا کیے ہیں۔
انتخابی شفافیت کے معاملے پر جاری تنازع اور نوجوانوں کی بڑھتی سیاسی سرگرمیاں حکومت کے لیے اہم چیلنج بن گئی ہیں۔ تاہم اس تحریک کے مستقبل اور بھارتی سیاست پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں حتمی نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا۔
کیا ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نئی سیاسی قوت بن سکے گی؟
اس تحریک کی نمایاں خصوصیت اس کی غیر روایتی شناخت اور نوجوانوں کی شرکت ہے۔ اس کے مطالبات میں انتخابی فہرستوں کی جانچ، ووٹروں کے حقوق کا تحفظ اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ شامل ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ احتجاج محدود مدت کی تحریک ثابت ہوتا ہے یا انتخابی شفافیت اور آزادیٔ صحافت کے معاملات پر ایک وسیع تر سیاسی مہم میں تبدیل ہوجاتا ہے۔






