اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغان طالبان حکومت میں بچوں کے خلاف قتل، معذوری اور جنگجو کارروائیوں میں استعمال سمیت سنگین جرائم کے خوفناک حقائق بے نقاب کر دیئے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری کردہ خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار میں بدامنی، شدید غربت، اور بچوں بالخصوص لڑکیوں کے بنیادی حقوق پر غیر قانونی اور غیر انسانی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2023 سے دسمبر 2025 کے دوران افغانستان میں بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے 4 ہزار 582 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت میں بچوں کو قتل یا معذور کرنے کے ایک ہزار 415 سے زائد وحشیانہ واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ افغانستان میں بچوں کو جنگجو کارروائیوں کے لیے بھرتی کرنے اور عسکری مقصد کے لیے استعمال کرنے کے واقعات میں 81 فیصد تک بیحد تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
ان تمام حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ پالیسیوں اور رجیم کے باعث افغان بچوں کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے اور انہیں جنگوں کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔ افغان بچوں کے خلاف ان سنگین جرائم کے شواہد طالبان کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔






