تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

اقوام متحدہ نے افغان طالبان رجیم میں بچوں کے خلاف 4 ہزار سے زائد سنگین جرائم بے نقاب کر دیئے

افغان طالبان

اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغان طالبان حکومت میں بچوں کے خلاف قتل، معذوری اور جنگجو کارروائیوں میں استعمال سمیت سنگین جرائم کے خوفناک حقائق بے نقاب کر دیئے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری کردہ خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار میں بدامنی، شدید غربت، اور بچوں بالخصوص لڑکیوں کے بنیادی حقوق پر غیر قانونی اور غیر انسانی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوری 2023 سے دسمبر 2025 کے دوران افغانستان میں بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے 4 ہزار 582 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت میں بچوں کو قتل یا معذور کرنے کے ایک ہزار 415 سے زائد وحشیانہ واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ افغانستان میں بچوں کو جنگجو کارروائیوں کے لیے بھرتی کرنے اور عسکری مقصد کے لیے استعمال کرنے کے واقعات میں 81 فیصد تک بیحد تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔

ان تمام حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ پالیسیوں اور رجیم کے باعث افغان بچوں کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے اور انہیں جنگوں کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔ افغان بچوں کے خلاف ان سنگین جرائم کے شواہد طالبان کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔