امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حوثی امریکی وسطی مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے ایندھن اور بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ اپنے ایک شدید ردعمل اور بعد ازاں منگل کو دیئے گئے بیان میں یمن کی حوثی تحریک کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی باغی انتہائی برے اور تخریب کارانہ انداز میں رفتار پکڑ رہے ہیں اور سعودی عرب میں بنیادی ڈھانچے کو قصداً نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق حوثیوں کی اس اچانک تیز ہونے والی عسکری سرگرمی کے پیچھے واضح سیاسی اور اقتصادی مقصد ہے، جس کے تحت وہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسطی مدتی انتخابات سے ٹھیک پہلے دنیا بھر میں ایندھن اور خام تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ موجودہ سیاسی ماحول کو متاثر کیا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کی اس پیشرفت کا تمام تر ملبہ ایران پر ڈالتے ہوئے کہا کہ حوثی جو ایک طویل عرصے سے بڑی حد تک خاموش اور محدود تھے، اب ایک بار پھر متحرک ہو گئے ہیں اور یہ سب کچھ غالباً ایران کے براہ راست اشارے پر ہو رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اسے ایک بکھرتی ہوئی اور ناکام ریاست قرار دیا، جس کے پاس نہ کوئی مضبوط بحریہ ہے، نہ فضائیہ کی صلاحیت، جو دنیا کی بدترین معیشت کا شکار ہے اور جہاں مہنگائی کی شرح تین سو ایک فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
اپنے خصوصی انداز میں ٹرمپ نے حوثیوں کے اس اقدام کو ان کی طرف سے ایک انتہائی غلط اور نامناسب سیاسی چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور اہم تنصیبات پر حملہ کر کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو زبردست معاشی نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے واضح انتباہ دیا کہ وہ اور ان کی انتظامیہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور علاقائی استحکام پر کیے جانے والے ان حملوں کو ہرگز نہیں بھولیں گے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ نومبر میں ہونے والے وسطی مدتی انتخابات کے اختتام پذیر ہوتے ہی امریکہ یمن اور پوری مشرق وسطیٰ میں حوثیوں کے تمام عسکری نیٹ ورکس پر بڑے پیمانے پر نئے اور شدید نوعیت کے فوجی حملے شروع کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شاید حوثیوں کو کوئی یہ بات واضح کر دے کہ وہ خود ان انتخابات میں کسی مقابلے کا حصہ نہیں ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی تمام سیاسی دھڑوں کے مقابلے میں ایک لینڈ سلائیڈ اور تاریخی فتح حاصل کر چکے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں انتخابات کے بعد بھی اپنی طاقتور پوزیشن میں واشنگٹن میں موجود رہوں گا اور یمن کے جنگجوؤں کو ان کی تمام حماقتوں کا حساب دینا پڑے گا۔






