امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا، جن میں آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اور امریکی جنگی جہازوں کو ڈبونے کے دعوے کیے گئے تھے۔
امریکی ملٹری کے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے والے ہیڈکوارٹر سینٹرل کمانڈ نے پاسداران انقلاب کے نیوی کمانڈر کے بیانات کے جواب میں ایک انتہائی سخت اور جارحانہ ردعمل جاری کیا ہے۔
امریکی بلاک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے سرکاری بیان میں پاسداران انقلاب کے ان دعوؤں کو تحقیر آمیز قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بلاک یا اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے اور وہ خطے میں داخل ہونے والے کسی بھی امریکی بحری جہاز کو غرق کر دیں گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی نیوی کمانڈر کے اس مؤقف کو یکسر فضول اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے تحریر کیا کہ پاسداران انقلاب کے نیوی کمانڈر کے پاس حقیقت میں کوئی مؤثر یا منظم بحریہ موجود ہی نہیں ہے، جو امریکی افواج کا مقابلہ کر سکے۔
سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ امریکی عسکری فورسز اور خطے میں ان کے مضبوط عرب و عالمی شراکت دار ہی واضح طور پر آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے تمام عالمی سمندری راستوں پر آزادانہ کارروائیاں کر رہے ہیں اور پورا علاقہ انہی کے مکمل تحفظ اور کنٹرول میں ہے۔
اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کے تمام ادعاؤں، دھمکیوں اور ناکہ بندی کے زبانی دعوؤں کے باوجود امریکی بحریہ اور اتحادی عسکری قوتوں نے خلیجی ممالک کی ایندھن ترسیل کو بحال رکھا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف پیر کے ایک ہی دن کے دوران امریکی اور اتحادی دفاعی چھتری کے نیچے خلیجی شراکت داروں کے 19 ملین بیرل سے زائد خام تیل اور ایندھن کو انتہائی حفاظت کے ساتھ آبنائے ہرمز کے راستے سے عالمی منڈیوں تک کامیابی سے پہنچایا گیا ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ اس اہم جغرافیائی گزرگاہ پر تہران کے نفاذ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔






