سعودی عرب کی فورسز نے حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے متعدد کروز اور بیلسٹک میزائلوں اور مسلح ڈرونز کو ناکام بناتے ہوئے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
حوثی ملیشیا نے انتہائی منظم انداز میں سعودی مملکت کے مختلف اہم شہری، دفاعی اور معاشی اہداف پر کروز میزائلوں، طاقتور بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز کا ایک بڑا حملہ داغ دیا۔
عرب اتحادی افواج کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کے چھ کروز میزائل، دو بیلسٹک میزائل اور پانچ ڈرونز فضاء میں ہی تباہ کردیئے گئے۔ شہر کی فضاؤں میں مسلسل اور انتہائی زور دار دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگیں، دارالحکومت ریاض کے رہائشی خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے۔
سعودی عرب کے ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس کے مطابق ریاض شہر کے شمال اور رہائشی علاقوں کے اوپر جن دو حوثی کروز میزائلوں کو فضا میں انٹرسیپٹ کیا گیا تھا، ان کا وزنی اور بارودی ملبہ اور ٹکڑے تیز رفتاری کے ساتھ نیچے رہائشی مکانات پر آ گرے۔
ملبہ گرنے کے باعث دو خواتین اور ایک معصوم بچے سمیت چار افراد شدید و معمولی زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر طبّی امداد فراہم کی گئی۔ مزید برآں، ملبہ گرنے سے ریاض میں تقریباً پندرہ قریبی رہائشی مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ سول ڈیفنس کی ریسکیو ٹیموں نے ہنگامی پروٹوکول کے تحت تمام متاثرہ علاقوں میں جائے وقوعہ کو سیل کر کے امدادی سرگرمیاں مکمل کیں۔
ادھر سعودی معاشی شریان کے مرکز الشرقیہ ریجن میں بھی حوثی حملوں کی لہر دیکھی گئی۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ظہران شہر میں تیل کمپنی آرامکو کی ایک اہم انتظامی عمارت کو حوثیوں نے نشانہ بنایا، جس سے عمارت کے ایک حصے میں محدود نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی۔
تاہم ہنگامی امدادی عملے اور فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا، جس کی وجہ سے نہ تو کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی اہم آئل آلات کو نقصان پہنچا۔
اس کے علاوہ الظہران، حریض اور الخرج کے حساس علاقوں کی طرف چھوڑے گئے دو مزید بیلسٹک اور ایک کروز میزائل کو بھی سعودی دفاعی شیلڈ نے فضا میں ہی مار گرایا۔
عرب اتحادی فورسز کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ حوثیوں کے اس مذموم حملے کا ملبہ ظہران کے ایک گنجان رہائشی علاقے میں بھی جا گرا ہے جہاں حکام حالات کو معمول پر لانے کے لیے فوری اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صنعا میں قائم حوثیوں کے عسکری اور ایندھن مراکز کو نشانہ بنانے سے قبل عرب اتحاد نے تمام عام شہریوں کی حفاظت اور انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے ایک وضاحتی نقشہ جاری کر کے یمن پیٹرولیم کمپنی کے مرکزی ایندھن اسٹیشن سے فوراً نکل جانے کی کھلی تنبیہ بھی جاری کی، تاکہ کسی عام شہری کو نقصان نہ پہنچے۔






