امریکی صدر نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو تاریخ کا بدترین سبق سکھانے اور ان کے خلاف ایک بڑا ملٹری ایکشن کرنے کی دھمکی دی ہے۔
امریکی ریاست الاسکا کے شہر واسیلا میں منعقدہ انتخابی جلسے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اب تک کا سب سے زیادہ سخت اور جارحانہ انداز اختیار کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ذرا انتظار کرو اور خود دیکھو کہ ہم اب ایران کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں۔ ہم ایک ایسا زبردست کام اور نمبر کرنے جا رہے ہیں، جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا، کیونکہ اب امریکہ کا پیمانہ صبر ہر لحاظ سے لبریز ہو چکا ہے۔
امریکی صدر نے حامیوں کے سامنے بار بار دہرایا کہ امریکی انتظامیہ اور عوام نے ایرانی اقدامات کو برداشت کرنے کی اپنی تمام آخری حدیں پار کر لی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام اب صرف انتظار کی حالت میں بیٹھے ہیں اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ ان کے خلاف کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر حملے کے بنیادی سبب کی وضاحت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اصل اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ واشنگٹن کسی بھی قیمت پر تہران کو جوہری اور ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے یا بنانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت ان تمام ایٹمی اور سائنسی اثاثوں اور مادوں کو حاصل کرنے کی شدید خواہش رکھتی ہے، جو وہاں ہزاروں ٹن وزنی چٹانوں اور پہاڑوں کے نیچے گہرائی میں دفن ہیں۔ لیکن امریکی طاقت ان کے ان تمام عزم اور منصوبوں کو مکمل طور پر ملیا میٹ کر دے گی۔






