امریکی کانگریس کے 27 ڈیموکریٹ اراکین نے ایران میں حالیہ دو امریکی فضائی حملوں میں معصوم بچوں اور شہریوں کی بڑی تعداد میں شہادت پر پینٹاگون سے وضاحت طلب کرلی۔
ایران میں امریکی ملٹری کارروائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات پر اب امریکی اقتدار کے ایوانوں کے اندر سے ہی شدید ترین نقد و تنقید کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔
امریکی کانگریس کے 27 نمائندوں اور اراکین کے ایک گروپ نے محکمہ دفاع (پینٹاگون) سے سرکاری خطوط اور مطالبات کے ذریعے سخت سوالات کیے ہیں کہ ایرانی سرزمین پر کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کے لیے وضع کردہ انسانی قوانین پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا اور اس خطرناک حد تک انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے۔
امریکی قانون سازوں کی اس کھلی ناراضگی کے پیچھے دو واقعات کا پس منظر ہے۔ ان میں ایک یکم ستمبر کو ایرانی صوبے ہرمزگان کے ساحلی شہر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کے اوپر امریکی فضائی حملہ ہے، جس میں دو معصوم بچوں سمیت پانچ عام شہری شہید ہو گئے تھے۔
امریکی ڈیموکریٹک کانگریس وومن یاسمین انصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ یہ المناک واقعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دفاعی سیکریٹری پیٹ ہیگسیتھ کی طرف سے ایران میں چھیڑی گئی ایک تباہ کن، ناکام اور سراسر غیر قانونی جنگ کی وجہ سے ہونے والی شہری ہلاکتوں کے خوفناک سلسلے کا تسلسل ہے۔
کانگریس وومن یاسمین انصاری اور دیگر اراکین نے پینٹاگون کو لکھے گئے خط میں ہرمزگان کے شہر میناب میں 28 فروری کو کیے جانے والے امریکی حملے کی طرف عالمی برادری کی توجہ دلائی، جس میں ایک مقامی اسکول کو براہ راست نشانہ بنا کر 120 معصوم اسکول کے بچوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔
امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کو دفاعی اقدامات کے نام پر بلاجواز خون خرابا بند کرنا ہوگا اور امریکی عوام اور قانون سازوں کو واشنگٹن کی ان نااہلیوں کا جواب دینا ہو گا، جنہوں نے پوری دنیا کے سامنے امریکہ کا امیج مسخ کر دیا ہے۔






