آبنائے ہرمز میں ایک بڑے مال بردار جہاز کے ڈوبنے کے بعد سمندر میں تیرتے کنٹینرز اور سامان کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔ بعض وائرل ویڈیوز میں چھوٹی کشتیوں پر سوار افراد کو سامان جمع کرتے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ موقع پر ہی آئی فون اور مہنگے پرفیوم فروخت کیے جانے لگے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بحری شعبے نے 14 اکتوبر کو اعلان کیا کہ 2 ہزار 500 سے زائد کنٹینرز لے جانے والا ایک جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ لگنے سے ڈوب گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق جہاز ایک ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کررہا تھا جسے انہوں نے غیرمجاز اور خطرناک قرار دیا تھا۔
سمندر میں کنٹینرز تیرنے لگے، کشتیوں کی قطاریں!
ایرانی حکام نے جہاز ڈوبنے کے بعد سمندر میں کنٹینرز تیرنے کی اطلاع دی اور مقامی کشتیوں اور ماہی گیروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں پانی کی سطح پر بڑی تعداد میں اشیا اور کنٹینرز دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ کئی چھوٹی کشتیاں بھی نظر آتی ہیں۔
ان مناظر کو آبنائے ہرمز میں ڈوبنے والے جہاز سے منسوب کیا جارہا ہے۔
⚡️JUST IN: Iran has Sunk a Container Ship in the Strait of Hormuz that was carrying luxury Perfumes from Dubai and IPhones pic.twitter.com/8tfoT2ageT
— Mojtaba Khamenei Commentary (@MojtabaKhamen) October 14, 2026
آئی فون چاہیے یا پرفیوم؟ سمندر میں عجیب بازار کا دعویٰ!
سوشل میڈیا پر وائرل ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض افراد ڈوبے ہوئے جہاز سے بہہ کر آنے والا سامان جمع کرکے موقع پر ہی فروخت کررہے ہیں۔
پوسٹ کے مطابق کشتیوں پر موجود افراد مبینہ طور پر آئی فون اور پرفیوم خریدنے کی پیشکش بھی کررہے تھے۔
تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ویڈیوز میں دکھایا گیا تمام سامان اسی جہاز کا ہے یا واقعی سمندر میں باقاعدہ خریدوفروخت ہوئی۔
سامان کی ملکیت، قیمت اور تعداد کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
جہاز بارودی سرنگ سے ڈوبا یا حملے کا نشانہ بنا؟
واقعے کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرایا تھا۔
دوسری جانب سنگاپور کے بحری حکام نے آبنائے ہرمز میں اپنے رجسٹرڈ دو جہازوں پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملوں کی اطلاع دی، جن میں سے ایک جہاز ڈوب گیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر جہاز جی ایف ایس پرائیڈ کے ڈوبنے کی بھی تصدیق ہوئی ہے اور اس کے عملے کے تمام 21 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ ایرانی حکام کی جانب سے بارودی سرنگ سے ڈوبنے کا دعویٰ اسی جہاز کے بارے میں تھا یا کسی دوسرے جہاز کے متعلق۔
آبنائے ہرمز میں خطرات بڑھ گئے
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحری سلامتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے نزدیک ایسے واقعات نہ صرف بحری عملے کی جانوں بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سامان کی ترسیل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔
جہاز کے ڈوبنے کی خبر کی تصدیق ہوچکی ہے، لیکن سمندر میں آئی فون اور پرفیوم کی مبینہ فروخت کی وائرل کہانی کے کئی پہلو ابھی غیرمصدقہ ہیں۔






