امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظار کریں اور دیکھیں کہ امریکا تہران کے معاملے پر کیا اقدامات کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا اس معاملے پر بڑی حد تک فیصلہ کرچکا ہے، جبکہ ایرانی حکام بھی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران میں قیادت سے متعلق غیر یقینی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ تہران میں کس سے بات چیت کی جائے۔
انہوں نے اپنی کاروباری کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے خود کو معاہدے کرنے میں ماہر قرار دیا۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یوکرین جنگ اور سابق صدر جو بائیڈن کی روس سے متعلق پالیسی پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے ری پبلکن حامیوں پر زور دیا کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں بھرپور انداز میں ووٹ ڈالیں اور خبردار کیا کہ پارٹی کی شکست کی صورت میں سوشل سکیورٹی اور ٹپس پر ٹیکس سمیت مختلف معاملات متاثر ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے انتخابی حلقہ بندیوں پر بھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ ری پبلکن اکثریتی علاقوں کو جان بوجھ کر تقسیم کیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ کو بہترین قرار دیا۔
ایران کے حوالے سے امریکی صدر نے ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کے حصول کو روکنے کو اپنی حکومت کی بنیادی ترجیح قرار دیا۔
تاہم خطاب میں کسی نئی فوجی کارروائی کی تفصیلات یا وقت واضح نہیں کیا گیا۔






