تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

ایران کا نیا عسکری پیغام، 40 روزہ جنگ کے بعد جدید ہتھیاروں سے اسلحہ خانہ مضبوط بنانے کا اعلان

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محیبی نے کہا ہے کہ 40 روزہ جنگ کے بعد ایران نے اپنے اسلحہ خانے کو جدید ہتھیاروں سے مضبوط کیا ہے اور دفاعی و عسکری صلاحیتوں میں پیش رفت کی ہے۔

ایرانی ترجمان کے بیان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے زیادہ تر پرانے ہتھیار استعمال کیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں مخالفین کو پہلے سے زیادہ سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حسین محیبی نے ایران کے خلاف نئی امریکی جنگ کے امکان کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج ممکنہ فوجی کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی کامیابی دکھانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ یہ انتخابی سیاست سے متعلق ایرانی جنرل کا تجزیہ ہے، جس کے حق میں فراہم کردہ معلومات میں کوئی ثبوت شامل نہیں۔

ایران کے اس بیان کو ممکنہ نئی کشیدگی کے تناظر میں دفاعی تیاریوں اور جوابی کارروائی کی صلاحیت سے متعلق پیغام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اسلحہ خانے میں اضافے اور جدید ہتھیاروں کی نوعیت سے متعلق آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔