ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ ایران امریکی زمینی حملے کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ملک پر دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان اب بھی موجود ہے۔
یداللہ جوانی کے مطابق ایران بیرونی حملے کے نتیجے میں ریاست کے انہدام کے خطرے سے آگے نکل چکا ہے اور ایرانی افواج امریکا یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی جنرل نے کہا کہ ایران نے اپنے فوجی دستوں اور عسکری وسائل کی تعیناتی کے نظام میں بہتری لائی ہے، جس سے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول، دفاعی انتظامات میں تبدیلیاں امریکی زمینی کارروائی کے منصوبوں کو ناکام بنا سکتی ہیں۔
تاہم یہ ایرانی فوجی عہدیدار کا مؤقف ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ میں دفاعی صلاحیت میں بہتری کے حوالے سے آزادانہ شواہد، مخصوص ہتھیاروں یا نئے عسکری نظام کی تفصیلات شامل نہیں۔
یہ بیان ایران اور امریکا کے درمیان 40 روزہ جنگ کے بعد جاری کشیدگی اور مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام مسلسل اپنی فوجی تیاریوں پر زور دے رہے ہیں اور کسی نئے حملے کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔
امریکی زمینی حملہ فضائی حملوں یا دیگر فوجی اقدامات کے مقابلے میں کشیدگی میں نمایاں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسی کارروائی کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی وسائل، رسد اور لاجسٹک انتظامات درکار ہوں گے، جبکہ اس میں شریک افواج کو بھی سنگین خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا نتیجہ حملے کے حجم اور مقاصد، فوجی تعیناتی، انٹیلی جنس، رسد اور دونوں فریقوں کی عسکری صلاحیتوں سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔
یداللہ جوانی نے کسی مخصوص امریکی زمینی حملے کے منصوبے کی تفصیلات پیش نہیں کیں اور نہ ہی ایسے شواہد دیے کہ واشنگٹن نے ایران میں زمینی کارروائی کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ اس لیے ممکنہ حملے کے خدشے کو کسی تصدیق شدہ فوجی فیصلے سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
خطے کے لیے ایک نئی جنگ سیکیورٹی، توانائی کی فراہمی اور پڑوسی ممالک کے تعلقات پر سنگین اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
ایرانی جنرل کا بیان تہران کے اس مؤقف کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مزید تصادم کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے نتائج کا تعین صرف سرکاری بیانات کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا۔






