افغانستان سے ایران میں منشیات کی اسمگلنگ میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صوبہ خراسان رضوی میں افغانستان سے آنے والی منشیات، خصوصاً مصنوعی منشیات، کی اسمگلنگ گزشتہ سال کے مقابلے میں چار گنا بڑھ گئی ہے۔
ایرانی بارڈر گارڈ کمانڈر سردار ماجد شجاع کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں افغانستان سے ملحقہ ایرانی سرحد پر ڈیڑھ ٹن منشیات ضبط کی گئیں۔ ان کے بیان کے مطابق ضبط شدہ منشیات میں تقریباً 30 فیصد صنعتی یا مصنوعی منشیات شامل تھیں۔
ایرانی حکام نے افغانستان میں کرسٹل میتھ کی پیداوار میں تیزی اور اس کی قیمتوں میں اضافے کو اسمگلنگ کی اہم وجوہات میں شمار کیا ہے۔ کرسٹل میتھ ایک طاقتور مصنوعی نشہ آور مادہ ہے جس کی غیر قانونی تیاری اور ترسیل صحت عامہ اور سرحدی سیکیورٹی کے لیے سنگین مسائل پیدا کرسکتی ہے۔
افغانستان اور ایران کے درمیان طویل سرحد کے باعث سرحدی نگرانی اور غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام دونوں ممالک کے لیے اہم چیلنج ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سرحدی علاقوں، نقل و حمل کے راستوں اور مختلف تجارتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
طالبان رجیم کے دور میں افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ سے متعلق مختلف نوعیت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر پورے افغانستان میں منشیات کی پیداوار یا اسمگلنگ کے مجموعی رجحان کا تعین نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ اعداد و شمار مخصوص ایرانی سرحد اور صوبہ خراسان رضوی سے متعلق ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق سرحد پر منشیات کی ضبطی میں مصنوعی مادوں کا حصہ بھی قابل ذکر رہا۔ اس رجحان کی مکمل نوعیت جاننے کے لیے منشیات کی اقسام، اسمگلنگ کے راستوں، ضبطی کے واقعات اور گزشتہ برسوں کے تقابلی اعداد و شمار کا جائزہ ضروری ہے۔
منشیات کی غیر قانونی ترسیل سے نمٹنے کے لیے سرحدی نگرانی، معلومات کے تبادلے، اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی اور علاقائی تعاون اہم اقدامات ہیں۔ ایرانی حکام کے بیان میں سامنے آنے والے اعداد و شمار اس معاملے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق اور وسیع تر علاقائی تصویر کے لیے مزید مستند معلومات درکار ہیں۔






