ریڈیو فری یورپ نے طالبان رجیم کے واخان راہداری منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اسے حقیقی تجارتی رابطے کے بجائے علامتی اور نمائشی منصوبہ قرار دیا ہے۔
تجزیے کے مطابق دشوار گزار جغرافیہ، محدود تجارتی امکانات اور افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کو لاحق سیکیورٹی خدشات چین کے لیے اس راہداری کی افادیت محدود کرتے ہیں۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق طالبان رجیم نے 4 اکتوبر کو واخان سڑک کا افتتاح کیا، تاہم چینی ماہرین کے نزدیک سرحد جلد کھلنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ بلند پہاڑی راستوں اور سخت موسمی حالات کے باعث اس منصوبے کو مستقل اور قابلِ اعتماد تجارتی گزرگاہ میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ واخان کا درہ تقریباً 4 ہزار 800 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور سال میں صرف تین ماہ گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل رہتا ہے۔ ایسے حالات میں اس راستے کو باقاعدہ تجارتی نقل و حمل کے لیے استعمال کرنا مشکل ہوگا۔
ریڈیو فری یورپ کے جائزے میں افغانستان کی محدود معاشی صلاحیت کو بھی اہم رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق افغان معیشت کا حجم اور تجارتی امکانات چین کے لیے اس راہداری کی اہمیت کو محدود کرتے ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل اس منصوبے کی افادیت پر مزید سوالات اٹھاتے ہیں۔
واخان میں انسانی بحران اور عوامی ضروریات
تجزیے میں واخان کے علاقے میں بنیادی سہولتوں اور صحت کی صورت حال پر بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ رپورٹ میں نومولود بچوں کی شرح اموات 30 فیصد تک ہونے کا ذکر کرتے ہوئے طالبان رجیم کی ترجیحات پر سوال اٹھایا گیا ہے۔
ریڈیو فری یورپ کے تجزیے کے مطابق علاقے میں صحت، بنیادی سہولتوں اور عوامی فلاح کے مسائل کے مقابلے میں نمائشی منصوبوں پر توجہ دینا مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔
چین کے لیے دہشت گردی سب سے بڑا سیکیورٹی خدشہ
واخان راہداری کے مستقبل میں سیکیورٹی صورت حال کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ریڈیو فری یورپ کے مطابق افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ چین کے لیے سرحد کھولنے کے ممکنہ معاشی فوائد سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
تجزیے میں اقوام متحدہ کی 2026 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بدخشاں میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ تنظیم چین کے لیے ایک اہم سیکیورٹی تشویش ہے۔
رپورٹ کے مطابق چینی میڈیا نے افغانستان سے ملحقہ 76 کلومیٹر طویل سرحد کو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اہم محاذ قرار دیا ہے۔ چین کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ طالبان رجیم افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف کس حد تک ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیاں کرتی ہے۔
ریڈیو فری یورپ کے تجزیے میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ طالبان رجیم نے ای ٹی آئی ایم کے خلاف کارروائی کے چینی مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا ہے۔ اس صورت حال میں بیجنگ کے لیے محض سڑک کی تعمیر یا افتتاح سرحد کھولنے کے لیے کافی ضمانت نہیں بن سکتا۔
سرحد کھولنے کا فیصلہ سیکیورٹی اقدامات سے مشروط
تجزیے کے مطابق واخان راہداری کو فعال بنانے کے لیے صرف تعمیراتی کام مکمل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ دہشت گردوں کے تربیتی مراکز، سرحد پار دراندازی کے خدشات اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق سیکیورٹی تحفظات دور کرنا بھی ضروری ہوگا۔
ریڈیو فری یورپ کے جائزے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ چین کے لیے واخان منصوبے کی کامیابی کا انحصار طالبان رجیم کی جانب سے قابلِ تصدیق سیکیورٹی اقدامات پر ہوگا۔ جب تک افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے بیجنگ کے خدشات دور نہیں ہوتے، اس راہداری کو مکمل طور پر فعال تجارتی راستے میں تبدیل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔






