امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف اسرائیل کی جانب سے پیش کی گئی مدد قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے مددگار ثابت ہوا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے ایران کے زیرِ زمین جوہری پروگرام سے منسلک ایک مقام کو نشانہ بنانے کے امکان کا بھی اظہار کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کے خلاف کارروائی میں اسرائیل کی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہیے۔ امریکی صدر نے جواب دیا کہ ان کے خیال میں سعودی عرب کو یہ پیشکش قبول کر لینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ایک سفارتی ذریعے نے اسرائیلی اخبار کو بتایا تھا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کے خلاف مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اس پیشکش کا ایک مقصد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا بھی بتایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس اقدام کی مخالفت کی، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اسرائیلی مدد قبول کرنے پر سعودی عوام کی جانب سے ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکا تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے زیرِ زمین تنصیب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔
جمعرات کی رات ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کے بقول، اگر ایران کے پاس یہ ہتھیار آ گئے تو وہ انہیں ضرور استعمال کرے گا۔
ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ نامی مقام کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت ایک بہت بڑے پہاڑ کے نیچے موجود ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا اس مقام پر حملہ کرنے اور اسے تیزی سے تباہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے ان بیانات میں ایک جانب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ان پیش رفتوں کے خطے کی سفارتی صورتحال اور سکیورٹی پر ممکنہ اثرات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔






