ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز میں 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی حکام نے واقعے کو آبنائے ہرمز میں مقررہ پابندیوں اور راستوں کی خلاف ورزی سے جوڑا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق ٹینکر ممنوعہ راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس نے اپنا ریڈار سسٹم بھی بند کر رکھا تھا۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جہاز نے امریکی فوج کی معاونت سے آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور اس سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ٹینکر کا نام، اس کی ملکیت، عملے کی تعداد اور واقعے کے نتیجے میں ممکنہ جانی نقصان سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک خام تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے، جس کے باعث یہاں کسی بھی فوجی کارروائی، بارودی سرنگ کے واقعے یا جہاز رانی میں رکاوٹ کے عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی بیان میں واقعے کو امریکی فوج کی معاونت سے گزرنے کی کوشش سے منسلک کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام یا جہاز کی انتظامیہ کا مؤقف فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق اور نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔






