تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

مقبوضہ مغربی کنارے میں صحافی بھی محفوظ نہیں، اسرائیلی آبادکاروں کا واشنگٹن پوسٹ کی خاتون صحافی پر بہیمانہ تشدد

مغربی کنارے میں واشنگٹن پوسٹ کی صحافی پر حملہ

مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے ابو فلاح میں فلسطینی زیتون کے کاشت کاروں کی رپورٹنگ کرنے والی واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ واقعے کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 80 نقاب پوش آبادکاروں نے صحافی اور وہاں موجود دیگر افراد کو نشانہ بنایا۔

رپورٹنگ کے دوران ہیڈی لیوائن کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں لاتیں مارے جانے کی اطلاع ہے۔ واقعے میں ان کا کیمرہ اور فون چھینے جانے کی بھی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اخبار کے مطابق صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے محفوظ ماحول میسر ہونا چاہیے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

اسرائیلی فوج نے واقعے کا جائزہ لینے کا عمل شروع کیا ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے بھی تحقیقات جاری ہونے کی اطلاع ہے۔ تحقیقات کے نتائج اور واقعے میں ملوث افراد کی شناخت سے متعلق حتمی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی کاشت کاروں اور ان کی زمینوں سے متعلق واقعات کے دوران صحافیوں کی سلامتی کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ صحافیوں پر حملوں کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی آزادانہ رپورٹنگ کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔