واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو): مشرقِ وسطیٰ میں حوثی ملیشیا کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان نے سعودی عرب اور اسرائیل کے ممکنہ فوجی تعاون سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ چند روز قبل ہی اسرائیلی میڈیا میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثی ملیشیا کے خلاف اسرائیل کی براہِ راست فوجی مدد کی پیشکش مسترد کردی ہے۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔
اسرائیلی مدد پر ٹرمپ نے کیا کہا؟
16 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کے خلاف اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ مدد قبول کرنی چاہیے؟
ٹرمپ نے جواب دیا: ’’ہاں، بالکل! میرے خیال میں وہ ایسا کریں گے۔ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار رہا ہے۔‘‘
امریکی صدر نے اس موقع پر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے امکانات پر بھی مثبت رائے کا اظہار کیا۔
تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیل نے سعودی عرب کی کس نوعیت کی مدد کی ہے، یہ تعاون کب ہوا یا اس میں براہِ راست فوجی کارروائی، دفاعی معلومات یا کسی دوسرے شعبے کی معاونت شامل تھی۔
صرف تین روز قبل سعودی عرب کے انکار کی خبر!
ٹرمپ کے بیان سے صرف تین روز قبل، 13 اکتوبر کو ترک خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی نے اسرائیلی اخبار ہارٹز کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی مہم میں اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کی تجویز مسترد کردی۔
رپورٹ میں ایک نامعلوم سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ سعودی قیادت اسرائیلی فوجی تعاون میں دلچسپی نہیں رکھتی، کیونکہ ایسا اقدام سعودی عوام میں منفی ردعمل پیدا کرسکتا ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق اسرائیل امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کی راہ ہموار کرنا چاہتا تھا، جسے مستقبل میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں سے بھی جوڑا گیا تھا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس وقت سعودی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اس لیے اسے سعودی حکومت کے سرکاری اعلان کے بجائے اسرائیلی ذرائع پر مبنی رپورٹ کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
پھر ٹرمپ اسرائیلی مدد کی بات کیوں کر رہے ہیں؟
ٹرمپ کے بیان نے ایک اہم سوال پیدا کردیا ہے کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کی براہِ راست فوجی شمولیت نہیں چاہتا تو امریکی صدر کس نوعیت کے تعاون کا حوالہ دے رہے ہیں؟
اس سوال کا جواب فی الحال واضح نہیں ہے۔
ممکن ہے براہِ راست فوجی کارروائی اور دفاعی، انٹیلی جنس یا معلوماتی تعاون الگ الگ معاملات ہوں، تاہم کسی مخصوص خفیہ تعاون کی سرکاری تصدیق کے بغیر اسے حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی رواں ہفتے ایک انٹرویو میں خطے کے ممالک کی جانب سے اسرائیلی مدد کی درخواستوں کا عمومی ذکر کیا تھا، تاہم سعودی عرب کے ساتھ کسی مخصوص فوجی معاہدے یا مشترکہ کارروائی کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
کیا سعودی عرب اور اسرائیل قریب آرہے ہیں؟
امریکی صدر سے جب پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب کے ساتھ ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا امکان دوبارہ پیدا ہوگیا ہے تو ٹرمپ نے کہا کہ ایسا ممکن ہے اور شاید پہلے سے بھی زیادہ ممکن ہے۔
تاہم اس بیان کو سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی معاہدہ طے پانے کی تصدیق نہیں سمجھا جاسکتا۔
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اب تک باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے، جبکہ فلسطینی ریاست کا معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کی بحث میں ایک بنیادی مسئلہ ہے۔
حوثیوں کے حملوں سے خطے میں تشویش
یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق حالیہ اطلاعات کے بعد خطے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ان حالات میں سعودی عرب کے دفاعی تعاون، امریکا کے کردار اور اسرائیل کی ممکنہ شمولیت سے متعلق خبریں غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔
تاہم اب تک سامنے آنے والی معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سعودی عرب نے اسرائیل کو حوثی ملیشیا کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔
سعودی انکار کی خبر اور ٹرمپ کا دعویٰ، اصل حقیقت کیا؟
13 اکتوبر کی رپورٹ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے اسرائیلی فوجی شمولیت مسترد کیے جانے کی خبر سامنے آئی، جبکہ 16 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے سعودی عرب کے لیے مددگار ہونے کی بات کی۔
یہ دونوں بیانات بظاہر مختلف تصویر پیش کرتے ہیں، تاہم ضروری نہیں کہ ان میں مکمل تضاد ہو، کیونکہ براہِ راست فوجی مداخلت اور دیگر نوعیت کی دفاعی یا معلوماتی معاونت الگ معاملات ہوسکتے ہیں۔
اصل سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا سعودی عرب اسرائیلی فوجی تعاون سے دور رہنا چاہتا ہے یا خطے میں پردے کے پیچھے کسی محدود نوعیت کا رابطہ موجود ہے؟
اس کا حتمی جواب سعودی، اسرائیلی یا امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ اور واضح وضاحت ہی سے سامنے آسکتا ہے۔






