تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

ٹرمپ نے ’’بموں کی ماں‘‘ چلایا تو ایران ’’میزائلوں کے باپ‘‘ سے جواب دے گا! ایرانی رکن پارلیمنٹ کی دھمکی

ایران کی امریکا کو میزائل حملے کی دھمکی

تہران (جی ٹی وی نیوز اردو) — امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن علاءالدین بروجردی سے منسوب ایک سخت بیان سامنے آیا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف انتہائی طاقتور بم استعمال کیے گئے تو تہران میزائلوں کے ذریعے جواب دے سکتا ہے۔

بروجردی سے منسوب بیان میں امریکی ہتھیار ’’بموں کی ماں‘‘ کے مقابلے میں ایرانی میزائلوں کے لیے ’’میزائلوں کے باپ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ بیان میں یہ پیغام دیا گیا کہ ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری سے متعلق معاملات پر دباؤ قبول نہیں کرے گا اور امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں سخت ردعمل دے سکتا ہے۔

’’بموں کی ماں‘‘ کے مقابلے میں ’’میزائلوں کے باپ‘‘ کی دھمکی

ایرانی رکن پارلیمنٹ سے منسوب بیان میں خبردار کیا گیا کہ ایران کے خلاف طاقتور بم استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو امریکا کو ایرانی سرخ لکیریں عبور کرنے کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے زیرِزمین جوہری مقامات کو نشانہ بنانے کے ممکنہ امریکی حملے سے متعلق بیانات نے خطے میں فوجی تصادم کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ تاہم بروجردی سے منسوب الفاظ کی آزادانہ تصدیق اور کسی مخصوص ایرانی میزائل کے استعمال کے باضابطہ فیصلے کی تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔

’’میزائلوں کے باپ‘‘ کی اصطلاح سے بھی کسی مخصوص میزائل یا ہتھیار کے نظام کی واضح شناخت نہیں ہوتی۔ اس لیے اس بیان کو ایران کی جانب سے کسی خاص میزائل کے استعمال کے حتمی اعلان کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

آبنائے ہرمز پر ایران کا سخت مؤقف

بروجردی سے منسوب بیان میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی ایران کا سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ بیان کے مطابق تہران اس اہم سمندری گزرگاہ سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور اس گزرگاہ سے گزرنے والی بحری تجارت کا معاملہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا اہم پہلو ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی دھمکیاں عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری نقل و حمل کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔

بروجردی سے منسوب بیان میں ایران کے اس مؤقف کو امریکی پابندیوں کے تناظر میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کے سیاسی اعلان کو پوری گزرگاہ پر بلاشرکتِ غیر قانونی اختیار کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔

آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔ خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک پہنچنے والے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔

اس گزرگاہ میں فوجی تصادم، جہاز رانی میں رکاوٹ یا تجارتی آمدورفت محدود ہونے کی صورت میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو ایندھن کی بڑھتی لاگت، مہنگائی اور ترسیل کے اخراجات میں اضافے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی بیانات صرف امریکا اور ایران کے تعلقات تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

’’بموں کی ماں‘‘ کون سا ہتھیار ہے؟

امریکی فضائیہ کے جی بی یو 43/بی ایم او اے بی (GBU-43/B MOAB) بم کو عام طور پر ’’مدر آف آل بمز‘‘ یعنی ’’بموں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک طاقتور غیر جوہری بم ہے، جسے بڑے پیمانے پر دھماکہ خیز اثر پیدا کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

یہ جوہری ہتھیار نہیں ہے۔ اس کا نام اور تباہ کن صلاحیت اسے امریکی روایتی ہتھیاروں میں نمایاں بناتی ہے، تاہم اسے ایران کے خلاف استعمال کرنے کے کسی مخصوص فیصلے کی تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری بیان یا معتبر رپورٹ درکار ہوگی۔

دوسری جانب ’’میزائلوں کے باپ‘‘ کی اصطلاح ایرانی رکن پارلیمنٹ سے منسوب بیان میں استعمال ہوئی ہے، لیکن اس نام سے کسی مخصوص میزائل نظام کی شناخت نہیں ہوتی۔ ایران کے ممکنہ جوابی ہتھیاروں کے بارے میں قطعی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید مستند معلومات ضروری ہیں۔

کیا امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم بڑھ سکتا ہے؟

امریکی حملے کے امکان سے متعلق بیانات اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اس کے اثرات خطے کے دوسرے ممالک، بحری راستوں اور عالمی توانائی کی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔

فی الحال بروجردی سے منسوب بیان سے کسی فوری ایرانی حملے، مخصوص میزائل کے انتخاب یا کارروائی کے وقت کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اس بیان کا بنیادی پیغام امریکی فوجی کارروائی کے خلاف سخت ردعمل کی تنبیہ اور آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے مؤقف کو برقرار رکھنے پر زور دینا ہے۔