واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 17 اکتوبر 2026: ایران کے خلاف ممکنہ نئی امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ اور نجی کلب مارا لاگو پہنچ گئے ہیں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں 28 فروری 2026 کو امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے اعلان کے وقت ٹرمپ موجود تھے۔
ٹرمپ کی مارا لاگو واپسی ایسے وقت ہوئی ہے جب انہوں نے ایران کے ایک انتہائی محفوظ زیرِزمین مقام پک ایکس ماؤنٹین کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کی بات کی ہے۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا سے وابستہ صحافی مرتضیٰ غرقی کی جانب سے آئندہ 24 گھنٹوں میں نئی فوجی کارروائی کے امکان کا اندازہ سامنے آیا ہے، تاہم اس پیش گوئی کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
ٹرمپ کی مارا لاگو واپسی نے توجہ کیوں حاصل کی؟
امریکی صدر 16 اکتوبر کی رات فلوریڈا پہنچے اور مارا لاگو میں سیاسی سرگرمی میں بھی شریک ہوئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ فلوریڈا کے موسم میں ٹرمپ کی واپسی کا آغاز ہے، جبکہ ان کی وہاں موجودگی پہلے سے طے شدہ سیاسی سرگرمیوں سے بھی جڑی ہوئی تھی۔
اس لیے محض مارا لاگو واپسی کو کسی نئی فوجی کارروائی کی تیاری کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم ایران سے متعلق ٹرمپ کے تازہ بیانات کے ساتھ اس سفر نے سیاسی اور میڈیا سطح پر خاص توجہ حاصل کی ہے۔
28 فروری کو بھی ٹرمپ مارا لاگو میں تھے
28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اسی روز ٹرمپ نے فلوریڈا کے پام بیچ سے ایران میں امریکی فوجی کارروائی شروع ہونے کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ کی موجودہ مارا لاگو واپسی کو اسی پس منظر میں بعض حلقوں کی جانب سے فروری کے واقعات سے جوڑا جارہا ہے۔ تاہم دونوں واقعات میں یہ مماثلت اس بات کا ثبوت نہیں کہ واشنگٹن نے نئی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔
ایرانی صحافی کی 24 گھنٹوں میں حملے کی پیش گوئی
ایرانی ذرائع ابلاغ سے وابستہ صحافی مرتضیٰ غرقی کی جانب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات آئندہ 24 گھنٹوں میں نئی فوجی کارروائی کا اشارہ ہوسکتے ہیں۔
غرقی سے منسوب اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا نے ایران سے اس کے ایک زیرِزمین مقام کو نشانہ بنانے کے بعد جوابی کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی تھی اور تہران نے اسے مسترد کردیا۔
تاہم اس مبینہ امریکی درخواست کی واشنگٹن یا تہران کی جانب سے سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح اگلے 24 گھنٹوں میں حملے کا وقت بھی کسی امریکی فوجی ادارے یا ایرانی حکام کی جانب سے اعلان نہیں کیا گیا۔
لہٰذا 24 گھنٹوں میں حملے کی بات کو فی الحال ایک صحافتی پیش گوئی یا رپورٹ کے طور پر ہی دیکھا جا سکتا ہے، حتمی فوجی ٹائم لائن کے طور پر نہیں۔
ٹرمپ کی پک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی نئی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز میکس کو انٹرویو میں ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک انتہائی محفوظ زیرِزمین مقام پک ایکس ماؤنٹین کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کی بات کی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے جوہری اثاثے پہاڑ کے نیچے بڑی گہرائی میں موجود ہیں اور امریکا اس مقام پر کارروائی پر غور کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں اور امریکی زمینی فوج ایران بھیجنے کے امکان کو مسترد کیا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا GBU-43/B MOAB، جسے ’’بموں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے، کے استعمال کی کوئی منظوری دی گئی ہے۔
کیا ’’بموں کی ماں‘‘ استعمال کرنے کا فیصلہ ہوگیا؟
ٹرمپ کے حالیہ بیان میں طاقتور غیر جوہری بم کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا، تاہم انہوں نے یہ اعلان نہیں کیا کہ امریکا نے MOAB کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ طاقتور بم کے استعمال کا امکان اور کسی مخصوص فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ دو الگ معاملات ہیں۔ اس وقت دستیاب معلومات میں پک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی بات ٹرمپ کے بیان تک محدود ہے، جبکہ حملے کی تاریخ یا حتمی آپریشنل منصوبہ سامنے نہیں آیا۔
ایران کی جانب سے سخت ردعمل کا خطرہ
اگر امریکا ایران کے کسی اہم جوہری یا فوجی مقام کو نشانہ بناتا ہے تو تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کا خطرہ خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔
ایسی صورتحال میں اسرائیل، خلیجی ممالک اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات ممکنہ ردعمل کے دائرے میں آسکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی فوجی کشیدگی سے عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
کیا مارا لاگو ایک بار پھر جنگی فیصلوں کا مرکز بنے گا؟
مارا لاگو ٹرمپ کی سیاسی اور نجی سرگرمیوں کے اہم مقامات میں شامل ہے، لیکن صدر کی وہاں موجودگی بذاتِ خود کسی فوجی آپریشن کی تصدیق نہیں کرتی۔
موجودہ صورتحال میں تین الگ پیش رفت ایک ساتھ سامنے آئی ہیں: ٹرمپ کی مارا لاگو واپسی، پک ایکس ماؤنٹین پر ممکنہ امریکی حملے کا بیان، اور ایرانی صحافی کی جانب سے 24 گھنٹوں کے اندر کارروائی کی پیش گوئی۔
ان تینوں کو جوڑ کر فوری حملے کا حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ ٹرمپ کے تازہ بیانات نے یہ واضح کردیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور زیرِزمین تنصیبات سے متعلق امریکی فوجی آپشنز اب بھی زیرِبحث ہیں۔
اگلے 24 گھنٹے واقعی فیصلہ کن ہوں گے؟
فی الحال کسی امریکی فوجی ادارے نے اگلے 24 گھنٹوں میں ایران پر حملے کا اعلان نہیں کیا۔ اسی طرح ایرانی حکومت کی جانب سے بھی ایسی کسی مخصوص امریکی کارروائی کے وقت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اس لیے آنے والے گھنٹوں میں اصل توجہ واشنگٹن کے سرکاری فیصلوں، امریکی فوجی نقل و حرکت اور ایران کے ممکنہ ردعمل پر رہے گی۔ اگر نئی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود رہنے کے بجائے پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔






