مقبوضہ بیت المقدس (جی ٹی وی نیوز اردو) — اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی حلقے سے منسوب نجی تصاویر، ویڈیوز اور سیاسی رابطہ کاری سے متعلق مبینہ دستاویزات آن لائن سامنے آنے کے بعد اسرائیلی قیادت کے حساس ڈیٹا کے تحفظ اور سیاسی پیغام رسانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
اردنی خبر رساں ادارے رؤیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی گرام پر ایک چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے ایک اسرائیلی سفارت کار اور نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو سے منسلک موبائل آلات تک رسائی حاصل ہوئی، جس کے بعد متعدد تصاویر اور ویڈیوز آن لائن جاری کی گئیں۔
تاہم ان موبائل آلات تک غیر مجاز رسائی، مبینہ ڈیٹا حاصل کیے جانے کے طریقہ کار اور جاری کیے گئے مواد کی اصلیت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
Alleged leak exposes private footage and political messaging plans linked to Netanyahu’s inner circle
——
Videos and photographs allegedly linked to Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu and his inner circle have circulated across digital platforms, with a Telegram channel claiming it obtained private material after accessing mobile devices belonging to an Israeli diplomat and Netanyahu’s wife, Sara Netanyahu.According to Roya News, the material reportedly includes footage filmed inside Netanyahu’s military transport helicopter and photographs taken aboard the state aircraft, Wing of Zion.
The channel also alleged that intelligence warnings about hacking threats had been ignored, raising questions about the security of sensitive information linked to Netanyahu’s circle.
Separately, a photograph of a whiteboard circulated on Telegram appears to outline a political communications strategy covering research, press statements and the distribution of content through WhatsApp, TikTok, YouTube and X, alongside plans for media coordination and targeted outreach in Israel and abroad.
— The Cradle (@TheCradleMedia) October 16, 2026
نیتن یاہو کے فوجی ہیلی کاپٹر کے اندر کی مبینہ ویڈیو
رپورٹ کے مطابق گردش کرنے والے مواد میں اسرائیلی وزیراعظم کے زیرِاستعمال فوجی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر کے اندر بنائی گئی ایک ویڈیو بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل کے سرکاری طیارے ونگ آف زایون کے اندر لی گئی بعض تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں۔ یہ طیارہ اسرائیلی وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کے سرکاری سفر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اگر ان تصاویر اور ویڈیوز کی اصلیت اور ان کے ماخذ کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اعلیٰ حکومتی شخصیات کے سفر سے متعلق معلومات کے تحفظ پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم کسی سرکاری طیارے یا ہیلی کاپٹر کے اندر کی تصویر سامنے آنا، بذاتِ خود، کسی حساس فوجی نظام یا خفیہ آپریشنل معلومات تک رسائی ثابت نہیں کرتا۔
سارہ نیتن یاہو کے موبائل ڈیٹا تک رسائی کا دعویٰ
ٹیلی گرام چینل کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سارہ نیتن یاہو سے منسلک ایک موبائل ڈیوائس کا ڈیٹا حاصل کیا گیا۔
مبینہ لیک کے ساتھ نجی نوعیت کی تصاویر اور ویڈیوز کا ذکر بھی کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ مواد براہِ راست کسی موبائل فون سے حاصل کیا گیا، کسی آن لائن اکاؤنٹ سے نکالا گیا یا پہلے سے موجود فائلوں کو کسی نئے دعوے کے ساتھ جاری کیا گیا۔
اس لیے کسی مخصوص شخص کے موبائل فون کے ہیک یا مکمل ڈیٹا لیک ہونے کو اس مرحلے پر تصدیق شدہ حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
مبینہ سیاسی منصوبہ بندی کا وائٹ بورڈ بھی سامنے آگیا
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو ٹیلی گرام پر گردش کرنے والی وائٹ بورڈ کی تصویر ہے، جسے مبینہ طور پر سیاسی رابطہ کاری اور میڈیا حکمت عملی سے جوڑا جارہا ہے۔
تصویر سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات میں تحقیق، پریس بیانات کی تیاری، میڈیا سے رابطے اور سوشل میڈیا پر مواد کی تقسیم جیسے امور کا ذکر کیا گیا ہے۔
مبینہ منصوبے میں واٹس ایپ، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور ایکس سمیت مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل کے اندر اور بیرونِ ملک مخصوص حلقوں تک سیاسی پیغامات پہنچانے اور میڈیا رابطہ کاری سے متعلق نکات بھی تصویر میں موجود ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
تاہم اس وقت یہ ثابت نہیں ہوا کہ وائٹ بورڈ نیتن یاہو کے دفتر کا ہے، اسے کس نے تیار کیا، اس پر درج نکات کس مقصد کے لیے تھے یا آیا یہ منصوبہ عملی طور پر نافذ بھی کیا گیا تھا۔
کیا سوشل میڈیا پر رائے عامہ متاثر کرنے کی حکمت عملی تھی؟
مبینہ وائٹ بورڈ نے سیاسی پیغام رسانی کے طریقہ کار پر نئی بحث شروع کردی ہے۔
جدید سیاسی مہمات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، پریس بیانات، ویڈیو مواد، صحافیوں سے رابطے اور براہِ راست ڈیجیٹل کمیونیکیشن کا استعمال عام ہے۔
اس لیے کسی منصوبے میں یوٹیوب، ایکس، ٹک ٹاک یا واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز کا ذکر ہونا، بذاتِ خود، غیر قانونی سرگرمی یا خفیہ پروپیگنڈے کا ثبوت نہیں بنتا۔
کسی مبینہ سیاسی مہم کی نوعیت طے کرنے کے لیے اصل دستاویز، اسے تیار کرنے والے افراد، مالی معاونت، منظوری دینے والے حکام اور عملی سرگرمیوں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوگی۔
ہیکنگ سے متعلق سکیورٹی وارننگز کا معاملہ
ٹیلی گرام چینل کی جانب سے یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ حساس معلومات کے تحفظ سے متعلق پہلے سے موجود انٹیلی جنس یا سکیورٹی وارننگز کو نظرانداز کیا گیا تھا۔
تاہم ان مبینہ وارننگز کی نوعیت، انہیں جاری کرنے والے ادارے اور متعلقہ حکام کے ردعمل کے بارے میں قابلِ تصدیق تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اسی وجہ سے یہ معاملہ بھی فی الحال غیرمصدقہ دعوے کی حد تک ہے اور اسے ثابت شدہ سکیورٹی ناکامی کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
اسرائیلی قیادت کے لیے سکیورٹی کا نیا سوال
اعلیٰ سیاسی شخصیات سے منسلک موبائل فون، آن لائن اکاؤنٹس اور مواصلاتی نظام کسی بھی ریاست میں معلوماتی تحفظ کے لحاظ سے حساس ہوتے ہیں۔
اگر کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت کے ذاتی یا سرکاری مواصلاتی نظام تک غیر مجاز رسائی کی تصدیق ہوجائے تو اس کے اثرات صرف نجی معلومات تک محدود نہیں رہتے بلکہ سرکاری رابطوں، سفر کے شیڈول اور دیگر حساس معلومات کے تحفظ سے متعلق بھی سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم موجودہ معاملے میں یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ گردش کرنے والا مواد حقیقی ہے یا نہیں، اسے کس ذریعے سے حاصل کیا گیا اور آیا اس میں واقعی کوئی سرکاری یا حساس معلومات موجود ہیں۔
اصل حقیقت کیا ہے؟
رؤیا نیوز کی رپورٹ اور ٹیلی گرام پر سامنے آنے والے دعووں نے نیتن یاہو کے قریبی حلقے کے ڈیجیٹل سکیورٹی اور سیاسی رابطہ کاری کے بارے میں سوالات ضرور پیدا کیے ہیں، لیکن اس معاملے کے کئی بنیادی پہلو ابھی غیر واضح ہیں۔
سب سے اہم سوالات یہ ہیں کہ مبینہ ہیکنگ واقعی ہوئی یا نہیں، جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیوز اصل ہیں یا نہیں، اور وائٹ بورڈ پر موجود سیاسی منصوبہ بندی کا نیتن یاہو کے دفتر یا کسی سرکاری ادارے سے کوئی حقیقی تعلق ہے یا نہیں۔
اگر ان دعووں کی آزادانہ تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ معاملہ اسرائیلی قیادت کے معلوماتی تحفظ اور سیاسی رابطہ کاری کے حوالے سے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ فی الحال اسے مبینہ ڈیٹا لیک کے طور پر ہی پیش کرنا زیادہ درست ہے، نہ کہ تصدیق شدہ ہیکنگ یا خفیہ سیاسی مہم کے طور پر۔
ماخذ: رؤیا نیوز کی رپورٹ اور ٹیلی گرام پر گردش کرنے والے دعوے






