اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کی ایک مرتبہ پھر سخت مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی قیادت میں آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دی جائے گی۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کا یہ مؤقف فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن اور اسرائیل کی داخلی سیاست کے حوالے سے ایک اہم تنازع بن گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک تازہ بیان میں نیتن یاہو سے یہ الفاظ منسوب کیے گئے ہیں:
’’کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہوگی، بالکل نہیں ہوگی۔ اپوزیشن کے اتحادی واضح طور پر کہتے ہیں کہ فلسطینی ریاست قائم ہوگی، لیکن میرے ہوتے ہوئے ایسا نہیں ہوگا۔‘‘
اگرچہ اس تازہ اقتباس کے عین الفاظ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت نیتن یاہو کا پہلے سے واضح اور سرکاری طور پر ریکارڈ شدہ مؤقف ہے۔
فلسطینی ریاست کے قیام پر نیتن یاہو کا مسلسل انکار
اسرائیلی وزیراعظم نے 9 اگست 2026 کو حکومتی اجلاس کے آغاز پر اعلان کیا تھا کہ جب تک وہ وزیراعظم ہیں، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی۔
اس سے پہلے ستمبر 2025 میں بھی انہوں نے دریائے اردن کے مغرب میں فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کیا تھا۔
نیتن یاہو کا کہنا رہا ہے کہ انہوں نے برسوں سے اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باوجود فلسطینی ریاست کے قیام کو روکے رکھا ہے۔
ان کے ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطینی ریاست کی مخالفت محض انتخابی مہم کا نعرہ نہیں بلکہ ان کی دیرینہ سیاسی پالیسی کا حصہ ہے۔
Netanyahu:
There will be no Palestinian state. There will not be one.
The opposition’s partners say very clearly that there will be one.
Under me, there will not be one. pic.twitter.com/jwUeP5J6O0
— Clash Report (@clashreport) October 17, 2026
اسرائیلی انتخابات سے پہلے فلسطین کا مسئلہ پھر نمایاں
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اس کے اتحادیوں کو اپوزیشن جماعتوں کے مقابلے کا سامنا ہے۔
انتخابات سے قبل فلسطینی ریاست کے قیام کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔
نیتن یاہو اپنے سیاسی مخالفین پر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے راستہ ہموار کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
تاہم اسرائیلی اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں کو فلسطینی ریاست کا حامی قرار دینا درست نہیں۔
کیا اسرائیلی اپوزیشن واقعی فلسطینی ریاست بنانا چاہتی ہے؟
اسرائیل کی انتخابی سیاست میں یہ ایک اہم سوال ہے۔
17 اکتوبر کو الجزیرہ میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق نیتن یاہو کے خلاف متحد ہونے والی بڑی صہیونی اپوزیشن جماعتوں میں سے کوئی بھی فوری طور پر آزاد فلسطینی ریاست قائم کرنے کے واضح انتخابی وعدے کے ساتھ میدان میں نہیں اتری۔
سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ، سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ اور دیگر اہم اپوزیشن رہنماؤں کے مؤقف میں اختلافات ضرور موجود ہیں، لیکن فلسطینی ریاست کے قیام کی کھلی حمایت ان کے مشترکہ انتخابی پروگرام کا حصہ نہیں۔
اس کے برعکس بعض عرب سیاسی جماعتیں فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہیں۔
اس صورتحال میں نیتن یاہو کا اپوزیشن کو فلسطینی ریاست کے قیام سے جوڑنا انتخابی حکمت عملی کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔
دو ریاستی حل کیا ہے؟
دو ریاستی حل سے مراد ایسا سیاسی انتظام ہے جس کے تحت اسرائیل اور ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست ایک دوسرے کے ساتھ وجود رکھیں۔
اقوام متحدہ اور دنیا کے متعدد ممالک طویل عرصے سے اس تصور کو اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے سیاسی حل کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
فلسطینی قیادت مشرقی بیت المقدس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتی ہے۔
تاہم مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، غزہ کی صورتحال، سرحدوں، سلامتی اور بیت المقدس کے مستقبل جیسے معاملات اس حل کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
نیتن یاہو کے اعلان سے فلسطینیوں پر کیا اثر پڑے گا؟
نیتن یاہو کا مؤقف فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اسرائیلی حکومت کی رضامندی پر مبنی مذاکراتی راستے کو مزید مشکل بناتا ہے۔
اسرائیلی حکومت کی مخالفت کے باوجود فلسطینی عوام کا حقِ خودارادیت بین الاقوامی قانون اور سفارت کاری میں ایک الگ مسئلہ ہے۔
متعدد ممالک فلسطین کو ریاست تسلیم کرچکے ہیں، لیکن سفارتی تسلیم شدگی اور زمین پر مکمل خودمختار ریاست کا قیام دو مختلف معاملات ہیں۔
اسی لیے فلسطینی ریاست کے مستقبل کا فیصلہ صرف اسرائیلی وزیراعظم کے کسی بیان سے نہیں ہوتا، اگرچہ اسرائیلی حکومتی پالیسیاں اس کے عملی امکانات پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
فلسطین کا مستقبل اور اسرائیل کی سیاسی سمت
نیتن یاہو کے تازہ منسوب بیان نے اس بنیادی اختلاف کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے جو اسرائیلی قیادت اور فلسطینی عوام کی قومی امنگوں کے درمیان موجود ہے۔
ایک طرف نیتن یاہو فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے عزم کا اظہار کررہے ہیں، دوسری جانب فلسطینی قیادت اور عالمی برادری کے متعدد ممالک دو ریاستی حل پر زور دے رہے ہیں۔
اسرائیل کے آئندہ انتخابات سے یہ طے ہوگا کہ حکومت کس کے ہاتھ میں آئے گی، لیکن فلسطینی ریاست کے معاملے پر کسی فوری اور بنیادی پالیسی تبدیلی کی ضمانت موجود نہیں۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ اگر نیتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کا مستقبل کیا ہوگا، اور اگر اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے تو کیا اس کی پالیسی واقعی مختلف ہوگی؟






