تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

چین کا اسرائیل سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیاں بسانے کا عمل روکنے کا مطالبہ، دو ریاستی حل پر زور

مقبوضہ مغربی کنارے

چینی وزیر خارجہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر بند کرے اور دو ریاستی حل کو اپنائے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے اپنے اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ فوری طور پر روکے اور اس پالیسی کو ختم کرے۔

انہوں نے فلسطینی مسئلے کو اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی قرار دیا۔ یہ ملاقات آذر بائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیا میں تعامل اور اعتماد سازی کے اقدامات کی کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔

چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور مفاہمت کا قیام چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور اسرائیلی فلسطینی تنازع کے حل کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ غزہ میں ایک سال قبل طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود وہاں انسانی بحران تاحال سنگین صورتحال اختیار کیے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوری ترجیح غزہ تک رسائی کو مکمل طور پر بحال کرنا ہے تاکہ دو ملین شہریوں کو زندہ رہنے کی جدوجہد میں مزید تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔