مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی کٹائی کے دوران انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں نے یورپی سفارت کاروں اور کیتھولک نمائندوں پر وحشیانہ حملہ کر دیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں طیبہ کے قریب زیتون کی کٹائی میں مصروف فلسطینی کسانوں کی مدد کے لیے آنے والے یورپی سفارت کاروں کے وفد پر اسرائیلی آباد کاروں نے دھاوا بول دیا۔
اس وفد میں بیلجیئم کے قونصل جنرل، فرانسیسی اور پولش سفارت کاروں کے علاوہ کیتھولک نمائندے بھی شامل تھے۔ بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے دوران ایک فرانسیسی میئر کو زخمی کیا گیا اور بیلجیئم کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
حملے میں نشانہ بننے والے فرانسیسی میئر برنارڈ باؤڈوکس نے میڈیا کو بتایا کہ اس واقعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو آباد کاروں کی اس غنڈہ گردی اور تشدد پر مکمل خاموشی اور رواداری حاصل ہے۔
اس دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نقاب پوش افراد نے سفارت کاروں اور کارکنوں کو دھمکیاں دیں اور زبردستی گاڑیوں کے شیشے توڑنے کی کوشش کی۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ ان انتہا پسند آباد کاروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
دوسری جانب مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں زیتون کی کٹائی کے سیزن کو سبوتاژ کرنے کے لیے آباد کاروں کے پرتشدد حملے مسلسل جاری ہیں۔
الخلیل، رام اللہ اور بیت لحم کے مختلف دیہاتوں میں کسانوں پر فائرنگ کی گئی، ان کے درخت کاٹے گئے اور ایک فارم میں تقریباً 20 بھیڑوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔
ادھر امریکی سفیر مائیک ہکابی اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی واشنگٹن پوسٹ کی خاتون فوٹو صحافی ہیڈی لیوین پر اسرائیلی آباد کاروں کے وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔






