فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت ملک بھر میں مہنگائی، تعلیمی نظام اور عوامی خدمات کے خلاف لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا، جس کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔
فرانس میں مہنگائی، گرتے ہوئے معیار زندگی، اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے۔
پیرس کے تاریخی مقام پلیس دی لا ریپبلک پر ہزاروں نوجوان، طلبا، نرسیں، فائر فائٹرز اور اساتذہ جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
اس احتجاج کو حالیہ برسوں کی سب سے بڑی عوامی تحریک قرار دیا جا رہا ہے، جس میں سن 2018 کی مشہور پیلی ویسٹ تحریک کے آثار بھی نمایاں نظر آئے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور ملک میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔
دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب بعض پرتشدد افراد نے پولیس پر پٹاخے اور آتش بازی کے گولے پھینکے، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے اور اسٹن گرینیڈز کا استعمال کیا۔ جھڑپوں کے دوران ایک کار اور نیوز اسٹینڈ کو بھی نذر آتش کر دیا گیا، جس سے آسمان پر سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق پولیس نے پرتشدد کارروائیوں اور لوٹ مار کی کوشش کرنے والے 400 افراد کو ملک کے مختلف شہروں بشمول پیرس، مارسیلے اور لیون سے گرفتار کر لیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج صدر ایمانوئل میکروں کی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے کیونکہ بڑھتے ہوئے قومی قرضوں اور بجٹ بحران کی وجہ سے حکومت کے پاس عوام کے مطالبات پورے کرنے کے لیے وسائل کی کمی واقع ہو رہی ہے۔






