آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر خام تیل لے جانے والے دو بڑے آئل ٹینکرز میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب دو تیل کے بڑے ٹینکرز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جن میں سے ہر ایک جہاز تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر جا رہا تھا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق پہلے ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد وہاں ایک زبردست دھماکا ہوا اور جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جبکہ دوسرے ٹینکر کو بھی اسی نوعیت کے حادثے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ آگ کے گولے میں تبدیل ہو گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان بحری جہازوں کے نام یا ان کے تیل کا اصل مقصد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ جہاز اپنے پوزیشننگ اور ریڈار سسٹمز کو بند کر کے ایران کے غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
انقلابی گارڈز کا دعویٰ ہے کہ ایک ٹینکر امریکی حمایت کے ساتھ اس آبی گزرگاہ کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ دوسرا جہاز وہیں بے حرکت ہو گیا۔






