امریکی وزیر خارجہ نے روس پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مختلف تنازعات کے دباؤ کے پیش نظر اٹھایا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں کو 60 روز کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب دنیا بھر میں توانائی اور تیل کی قیمتیں مختلف جنگوں اور تنازعات کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہو چکی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر کو اس بات کا بھی گہرا ادراک تھا کہ ان پابندیوں کا اثر امریکہ کے اتحادی ممالک بشمول بھارت پر کیا پڑے گا۔
مارکو روبیو کے مطابق بھارت جیسے ممالک نے اپنی توانائی کی ضروریات کو متنوع بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن وہ اب بھی اپنی توانائی کا ایک بڑا حصہ روس سے حاصل کر رہے ہیں کیونکہ ایک ہی دن میں اس نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے اور یوکرین میں روس کی جنگ نے مل کر تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے اور ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ روس کسی بھی طرح اپنی ڈیزل کی پیداوار فروخت کرنے والا تھا اور اس صورتحال میں اصل فرق صرف یہ تھا کہ اس تجارت سے امریکہ کو کتنا حصہ ملتا ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ معیشت کو مزید بحران سے بچانے کے لیے اس عارضی وقفے کی اشد ضرورت تھی۔






