وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ ایران کی خفیہ معلومات اور عسکری تعاون کی بدولت حوثی ملیشیا نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنے حملوں کو انتہائی موثر اور پیچیدہ بنا لیا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے سعودی عرب اور یمن کے حوثی مخالف اتحاد سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات کی بنیاد پر رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلی جنس اور ٹارگٹنگ ڈیٹا کی وجہ سے حوثی ملیشیا کو نمایاں عسکری برتری حاصل ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی مدد نے حوثیوں کو بحرِ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیزی سے علاقائی پیش قدمی کرنے اور سعودی عرب کی اہم ترین تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے میں بھرپور مدد فراہم کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس اشتراکِ کار کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حوثی جنگجوؤں نے حالیہ ہفتوں میں ریاض کے ہوائی اڈے پر بھی ہلاکت خیز حملے کیے، جن میں 13 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
روایتی سمندری راستوں پر امریکی اور اتحادی فورسز کی سخت کارروائیوں کے بعد اب ایران کی جانب سے آبنائے اور دیگر ذرائع سے ہتھیاروں کی ترسیل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
دوسری جانب ایران نے یمن کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حوثی ملیشیا ایک بلکل آزاد اور خودمختار دھڑا ہے، جو اپنے تمام فیصلے خود کرتا ہے۔






