کینیڈا کے بڑے عسکری اڈے پر ہتھیاروں کے ساتھ مشق کے دوران ہولناک آگ بھڑک اٹھی، جس سے 4 کینیڈین فوجی ہلاک اور 39 زخمی ہو گئے ہیں۔
کینیڈا کے معروف عسکری اڈے بیس وین رائٹ پر ہتھیاروں کے ساتھ کی جانے والی سخت جنگی تربیت کے دوران اچانک بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک روپ دھار لیا، جس کے نتیجے میں 4 فوجی اہلکار ہلاک اور 39 زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق زخمیوں میں سے 19 اہلکاروں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، جنہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے واقعے کو بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ عسکری حکام نے بتایا کہ ابتدا میں آگ تربیتی جگہ سے تقریباً ایک کلومیٹر دور لگی تھی اور اسے قابو میں سمجھا جا رہا تھا، تاہم غیر معمولی طور پر تیز ہوا نے محض 30 سے 60 سیکنڈز کے اندر آگ کو تیزی سے فوجیوں کی طرف پھیلا دیا، جس کی وجہ سے سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔
واقعے کے فوراً بعد قریبی اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی اور درجنوں ایمبولینسوں و ہیلی کاپٹروں کی مدد سے زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔
فوجی قیادت نے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ آیا یہ حادثہ ناقابلِ روکت تھا یا اسے بچایا جا سکتا تھا، تاہم ابتدائی طور پر کسی بیرونی مداخلت یا دہشت گردی کے شواہد نہیں ملے۔






