فرانس کے مختلف شہروں میں پرتشدد ہنگاموں کے بعد صدر ایمانوئل میکرون نے خطاب کرتے ہوئے شرپسندوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا اعلان کردیا ہے۔
فرانس میں مہنگائی اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف جاری احتجاج اچانک پرتشدد رخ اختیار کر گیا، جس کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب کیا ہے۔
انہوں نے ملک میں جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں پر شدید غصے اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ لوٹ مار اور تباہی مچانے والے عناصر کو ان کے جرائم کی پوری سزا دی جائے گی۔
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے دن ملک بھر سے تقریباً 2 ہزار 400 افراد کو پولیس نے حراست میں لیا ہے جبکہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران کم و بیش ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
صدر میکرون کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں اور املاک کو نقصان پہنچانے والے فسادیوں کے درمیان واضح فرق قائم رکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک بحرانی یونٹ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
فرانس کے مختلف شہروں جن میں پیرس، مارسیل اور لیموجز شامل ہیں، میں بڑی سطح پر لوٹ مار کی گئی اور تاریخی عمارتوں و گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔
فرانسیسی اپوزیشن جماعتوں نے اس ابتر صورتحال پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ پولیس کے طریقہ کار اور طاقت کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ملک میں اگلے سال ہونے والے انتخابات سے قبل اس صورتحال نے شدید سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔






