روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کردی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کے سہ فریقی سربراہی اجلاس کی تجویز دی ہے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد تقریباً 4 سال سے جاری یوکرین جنگ کا ایسا حل تلاش کرنا ہے جو روس کے قومی مفادات کے مطابق ہو۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اس معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پیوٹن، ٹرمپ کے ساتھ اپنے بہتر ہوتے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کو ایسے نتائج کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، جو ماسکو کے لیے فائدہ مند ہوں۔
اس تجویز کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی شرکت شامل نہیں ہے، حالانکہ اجلاس میں خود یوکرین کے مستقبل اور جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کی جائے گی۔
یوکرینی صدر کو شامل کیے بغیر اس نوعیت کا اجلاس منعقد کرنے کی تجویز نے یورپی دارالحکومتوں اور واشنگٹن کے اتحادیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
یورپ اور یوکرین میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں ایسے معاہدے طے نہ پا جائیں، جن میں یوکرین کے مطالبات اور مؤقف کو نظر انداز کر دیا جائے۔






