تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

صدر پیوٹن کی ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ یوکرین جنگ پر سہ فریقی اجلاس کی تجویز

صدر

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کردی۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کے سہ فریقی سربراہی اجلاس کی تجویز دی ہے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد تقریباً 4 سال سے جاری یوکرین جنگ کا ایسا حل تلاش کرنا ہے جو روس کے قومی مفادات کے مطابق ہو۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اس معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پیوٹن، ٹرمپ کے ساتھ اپنے بہتر ہوتے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کو ایسے نتائج کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، جو ماسکو کے لیے فائدہ مند ہوں۔

اس تجویز کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی شرکت شامل نہیں ہے، حالانکہ اجلاس میں خود یوکرین کے مستقبل اور جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کی جائے گی۔

یوکرینی صدر کو شامل کیے بغیر اس نوعیت کا اجلاس منعقد کرنے کی تجویز نے یورپی دارالحکومتوں اور واشنگٹن کے اتحادیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

یورپ اور یوکرین میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں ایسے معاہدے طے نہ پا جائیں، جن میں یوکرین کے مطالبات اور مؤقف کو نظر انداز کر دیا جائے۔